خضدار حملے کی شدید مذمت، بھارت کو سبق سیکھنا چاہیے: اسحاق ڈار
اسلام آباد: نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خضدار میں اسکول بس پر دہشت گرد حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ ناقابل برداشت ہے اور حکومت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
سینیٹ کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ معصوم بچوں پر حملہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ انسانیت پر حملہ ہے، اور ایسے واقعات کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے۔
"بھارتی پراکسیز باز آ جائیں، بھارت کو سبق مل چکا ہے”
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے دشمن جان لیں کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ "بھارتی پراکسیز کو باز آ جانا چاہیے، اور بھارت کو جو سبق ملا ہے، اُسے یاد رکھنا چاہیے اور سیکھنا چاہیے۔”
"دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ ناگزیر ہے”
اسحاق ڈار نے سینیٹ میں کہا کہ دہشت گردی کا ناسور صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم اس فتنے کو ہر قیمت پر ختم کریں گے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام ریاستی ادارے متحد اور پرعزم ہیں۔”
"سیاسی اتفاقِ رائے اور نیا لائحہ عمل وقت کی ضرورت ہے”
وزیر خارجہ نے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اظہار کیے گئے جذبات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمیں سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر مل بیٹھنا ہوگا۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "ایک نئی کمیٹی تشکیل دی جائے جو آئندہ کے لیے جامع حکمتِ عملی طے کرے۔”
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کو ماضی میں واپس آنے کی اجازت دینے کی قیمت آج ہمیں چکانی پڑ رہی ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک مربوط قومی لائحہ عمل کے تحت اس فتنے کا مکمل خاتمہ کریں۔






