پشاور— ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل پشاور نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث گروہ کے ایک اہم کارندے کو مردان سے گرفتار کر لیا ہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق، کارروائی متاثرہ شہری کی باقاعدہ شکایت پر کی گئی، جس میں بتایا گیا تھا کہ ملزم انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث ہے۔
پرائیویٹ اسپتالوں کا استعمال
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نجی اسپتالوں کے ذریعے یہ مکروہ دھندہ چلا رہا تھا، جہاں غریب اور مجبور افراد کو رقم یا جھانسے کے ذریعے گردے دینے پر آمادہ کیا جاتا، جب کہ خریداروں سے بھاری رقوم وصول کی جاتیں۔
مزید گرفتاریوں کا امکان
ابتدائی تفتیش کے مطابق، اس غیر انسانی کاروبار میں متعدد افراد اور سہولت کار بھی شامل ہیں۔ ملزم سے تفتیش کے بعد مزید گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی، جب کہ پورے نیٹ ورک کی چھان بین کی جا رہی ہے۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ اس جرم کا دائرہ کار مختلف شہروں اور اسپتالوں تک پھیلا ہوا ہو سکتا ہے، اور تحقیقات کو جلد بین الصوبائی سطح تک وسعت دی جائے گی۔
قانونی کارروائی جاری
حکام نے واضح کیا ہے کہ انسانی اعضا کی خرید و فروخت ایک سنگین جرم ہے، جس کی سزا پاکستانی قانون کے تحت سخت قید اور جرمانہ ہے۔ ایف آئی اے نے عزم ظاہر کیا ہے کہ انسانی سمگلنگ اور اعضا کی غیرقانونی پیوندکاری جیسے جرائم میں ملوث افراد کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔





