لندن — برطانیہ میں نوجوانوں کو غیر قانونی ہتھیاروں سے دور رکھنے اور چاقو و تلواروں کے جرائم کی روک تھام کے لیے حکومت نے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ ملک بھر میں ’ایمنسٹی وین‘ مہم شروع کی جا رہی ہے جس کے تحت نوجوان بغیر کسی قانونی کارروائی کے ننجا تلواروں سمیت ممنوعہ ہتھیار رضاکارانہ طور پر جمع کرا سکیں گے۔
یہ مہم جولائی سے لندن، ویسٹ مڈلینڈز اور گریٹر مانچسٹر میں چلائی جائے گی، جس کی قیادت معروف سماجی کارکن فیرون پال کریں گے۔ انہیں اس اقدام کے لیے پولیس اور مقامی اداروں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
"رونن کینڈا قانون” کا نفاذ
یہ اقدام 16 سالہ نوجوان رونن کینڈا کے بہیمانہ قتل کے بعد سامنے آیا، جسے 2022 میں وولورہیمپٹن میں ایک ننجا تلوار سے قتل کیا گیا تھا۔ رونن کی والدہ پوچا کینڈا نے بیٹے کی المناک موت کے بعد ہتھیاروں پر پابندی کے لیے مہم شروع کی، جس کے نتیجے میں برطانیہ میں "رونن قانون” نافذ کیا جا رہا ہے۔
اس قانون کے تحت یکم اگست 2025 سے ننجا تلواروں کو رکھنا، خریدنا، فروخت کرنا یا درآمد کرنا مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا جائے گا۔ خلاف ورزی کرنے والے افراد کو ابتدائی طور پر چھ ماہ قید اور بعد ازاں دو سال تک کی سزا دی جا سکے گی۔
ایمنسٹی بن اور مالی ترغیب
ہوم آفس کی معاونت سے قائم کردہ چیریٹی ورڈ فار ویپنز کے ذریعے انگلینڈ اور ویلز میں 37 مقامات پر ’’سرینڈر بن‘‘ رکھے جا رہے ہیں۔ ان مقامات کا انتخاب اُن علاقوں میں کیا گیا ہے جہاں چاقو کے جرائم کی شرح 45 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔
مہم کے دوران جو افراد ننجا تلواریں جمع کرائیں گے، وہ مخصوص پولیس اسٹیشنز سے پانچ پاؤنڈ نقد انعام بھی حاصل کر سکتے ہیں — ایک علامتی قدم جس کا مقصد نوجوانوں کو مثبت رویے کی طرف مائل کرنا ہے۔
امید کی کرن
سماجی کارکن فیرون پال کا کہنا ہے:
"ہم نوجوانوں کو دوسرا موقع دینا چاہتے ہیں۔ یہ صرف ہتھیار جمع کرانے کی مہم نہیں بلکہ ایک نئی شروعات کا پیغام ہے۔”
یہ مہم نہ صرف ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں مدد دے گی بلکہ ایک پرامن معاشرے کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔






