لاہور (اسپورٹس ڈیسک) — پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا رنگا رنگ ایونٹ جہاں ملکی و غیر ملکی شائقین کرکٹ کے جوش و خروش کا مرکز بنا ہوا ہے، وہیں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی میچ میں شرکت نے قوم میں نئی روح پھونک دی۔ تاہم یہ منظر بھارتی میڈیا کو ہضم نہ ہو سکا اور وہ حسبِ روایت جھوٹے پروپیگنڈے پر اتر آیا۔
قومی اتحاد اور کرکٹ کا حسین امتزاج
پی ایس ایل میچ کے دوران آرمی چیف کی اسٹیڈیم آمد پر شائقین کرکٹ، پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) حکام اور فرنچائز مالکان کی جانب سے والہانہ استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر اسٹیڈیم "پاکستان زندہ باد” کے نعروں سے گونج اٹھا، اور ایک مرتبہ پھر یہ پیغام دنیا کو دیا گیا کہ کرکٹ صرف کھیل نہیں، قومی جذبے کا اظہار بھی ہے۔
بھارتی میڈیا کی تکلیف: سیاست کا بے بنیاد الزام
بھارتی میڈیا نے ہمیشہ کی طرح غیر پیشہ ورانہ رویہ اپناتے ہوئے پی ایس ایل میں آرمی چیف کی موجودگی کو متنازع بنانے کی کوشش کی، اور پاکستان پر کرکٹ میں "سیاست” شامل کرنے کا بے بنیاد الزام عائد کیا۔ حالانکہ خود بھارت میں بارہا دیکھا گیا ہے کہ سیاسی و عسکری شخصیات کرکٹ ایونٹس میں شریک ہوتی ہیں۔
دہرے معیار پر عالمی فینز کا ردعمل
دلچسپ بات یہ ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کے بھارتی سربراہ جے شاہ نے حالیہ دنوں بھارتی فوج کی کھلم کھلا حمایت کی، جس پر عالمی کرکٹ فینز نے شدید ردعمل دیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے نشاندہی کی کہ اگر عثمان خواجہ اور محمد رضوان کو غزہ کے حق میں اقدامات پر سزا دی جا سکتی ہے تو پھر جے شاہ کو جنگی بیانات دینے پر خاموشی کیوں؟
دفاعی کامیابی اور اسپورٹس میں استحکام
یاد رہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا تھا، جس میں دشمن کے طیارے، ڈرونز اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد پی ایس ایل کا کامیاب انعقاد، قومی قیادت کی شرکت اور عوام کا جوش اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ایک پرعزم، متحد اور خوشحال قوم ہے۔
PSL: کھیل سے بڑھ کر قومی اعتماد کا استعارہ
پاکستان سپر لیگ صرف کرکٹ نہیں، بلکہ عزم، امن، یکجہتی اور قومی غیرت کی علامت بن چکی ہے۔ اس میں آرمی چیف کی شرکت قومی اعتماد کا اظہار ہے، اور وہ قوتیں جو اس اتحاد سے خائف ہیں، وہ پروپیگنڈا سے عوامی حوصلے کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔






