واشنگٹن / غزہ (بین الاقوامی نیوز ڈیسک) — غزہ میں جاری انسانی بحران پر عالمی سطح پر تنقید میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اور اب اس کا اظہار امریکہ کے اعلیٰ ایوانوں میں بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی سینیٹ کمیٹی میں پیشی کے دوران ایک شہری نے غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف جرأت مندانہ احتجاج کرتے ہوئے "نسل کشی بند کرو” کا نعرہ بلند کر دیا۔
احتجاج کرنے والے شخص نے "No $$$ to Israel” (اسرائیل کو ایک پیسہ نہیں) کا پیغام دینے والی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔ جیسے ہی روبیو بیان دے رہے تھے، وہ شخص اچانک اپنی نشست سے کھڑا ہوا اور پُرجوش انداز میں غزہ میں نسل کشی رکوانے کا مطالبہ کیا۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے فوراً موقع پر پہنچ کر احتجاج کرنے والے شخص کو باہر نکال دیا، تاہم اس واقعے نے ایوان میں ایک علامتی اور طاقتور پیغام چھوڑا۔
یورپی یونین اور برطانیہ کا بھی سخت مؤقف
ادھر یورپی یونین نے بھی غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور انسانی امداد کی فراہمی کی معطلی پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کا اعلان کیا ہے۔ یورپی رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر خاموشی ممکن نہیں۔
اسی تناظر میں برطانیہ نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کر دیے ہیں، جب کہ اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے۔
عالمی ضمیر کی بیداری
یہ واقعات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ اسرائیلی مظالم کے خلاف عالمی ضمیر بیدار ہو چکا ہے۔ دنیا بھر کے عوام، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اب خود طاقتور ممالک کے ادارے اور سیاستدان بھی اسرائیلی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
عوامی آواز کا اثر
امریکی سینیٹ میں ہونے والا یہ احتجاج صرف ایک شخص کی آواز نہیں، بلکہ عالمی عوامی جذبات کا عکاس ہے۔ دنیا بھر میں "Ceasefire Now” اور "Stop Genocide in Gaza” جیسے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں، اور اب ان کا اثر پالیسی سطح پر بھی نمایاں ہونے لگا ہے۔






