پاکستان نے بھارتی الزامات کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کردیا، سکھ مقدسات کے احترام کی روشن مثال
اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی فوج کی جانب سے امرتسر میں سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کے الزام کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایسی مقدس عبادت گاہ کو نشانہ بنانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی الزامات بے بنیاد، جھوٹ پر مبنی اور مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے خود 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستان میں عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا، جس کی عالمی سطح پر مذمت ہونی چاہیے۔
ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے سکھ مذہب کے مقدس مقامات کا محافظ رہا ہے۔ ہر سال ہزاروں سکھ یاتری پاکستان میں واقع اپنے روحانی مقامات کی زیارت کے لیے آتے ہیں، جنہیں پاکستان مکمل احترام، تحفظ اور سہولتیں فراہم کرتا ہے۔
خصوصاً کرتارپور راہداری کی مثال دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے سکھ برادری کو ویزا فری رسائی دے کر دنیا بھر میں بین المذاہب ہم آہنگی کی روشن مثال قائم کی ہے۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ جھوٹا پروپیگنڈا دراصل اپنے قابلِ مذمت اقدامات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، جو کسی صورت کامیاب نہیں ہو گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ مؤقف بین الاقوامی برادری کو مذہبی رواداری، مقدسات کے احترام اور حقائق پر مبنی خارجہ پالیسی کا مضبوط پیغام دیتا ہے۔






