اہم خبریںدنیا

غزہ بحران پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ، برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کا اسرائیل کو سخت پیغام

لندن/پیرس/اوٹاوا: غزہ میں جاری انسانی بحران پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے تحت برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوجی کارروائیاں بند نہ کی گئیں اور امدادی سامان پر عائد پابندیاں ختم نہ ہوئیں تو ان ممالک کی جانب سے ممکنہ طور پر سخت پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

تینوں ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے عام شہریوں کو بنیادی انسانی امداد کی فراہمی سے انکار ناقابل قبول ہے، جو بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

اعلامیے میں مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی توسیع پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ واضح کیا گیا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہدفی معاشی و سفارتی پابندیوں پر غور کیا جائے گا۔

مدد کی پہلی کرن: امدادی ٹرک غزہ میں داخل

بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تین ماہ کی مکمل ناکہ بندی کے بعد پہلی بار پانچ امدادی ٹرک کرم ابو سالم گزرگاہ کے ذریعے غزہ میں داخل ہوئے ہیں۔ ان ٹرکوں میں بچوں کے لیے غذائی اشیاء اور دیگر بنیادی ضروریات کا سامان شامل تھا۔

اقوام متحدہ نے امداد کے اس ابتدائی داخلے کو "مثبت پیش رفت” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں تباہ حال آبادی کو بچانے کے لیے امداد کی فراہمی میں بڑے پیمانے پر اضافے کی اشد ضرورت ہے۔

عالمی ردعمل اور امید کی نئی لہر

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی سفارتی دباؤ نہ صرف غزہ میں فوری امدادی رسائی کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے بلکہ اسرائیل پر انسانی حقوق کے تحفظ کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے بھی زور دے رہا ہے۔

بین الاقوامی برادری کی جانب سے یہ بیانات امن، انسانیت اور انصاف کے حق میں ایک مضبوط آواز سمجھے جا رہے ہیں، جو جنگ زدہ خطے کے لاکھوں متاثرہ شہریوں کے لیے امید کی کرن بن سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button