اہم خبریںدنیا

دنیا جو بائیڈن کی صحت یابی کے لیے متحد — سیاسی وابستگی سے بالاتر دعاؤں کا سلسلہ جاری

واشنگٹن: سابق امریکی صدر جو بائیڈن میں حالیہ کینسر کی تشخیص کے بعد دنیا بھر سے ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ امریکی سیاست میں اختلافات کے باوجود، اس موقع پر ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس ایک صف میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 82 سالہ جو بائیڈن کے لیے نہ صرف امریکی عوام بلکہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما یکجہتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ” پر اظہار افسوس کرتے ہوئے لکھا:
"میلانیا اور میں جو بائیڈن کی طبی رپورٹ سن کر افسردہ ہیں۔ ہم ان کی اور ان کے خاندان کی مکمل صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔”

دوسری جانب سابق صدر باراک اوباما نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جذباتی پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا:
"مشیل اور میں بائیڈن خاندان کے ساتھ ہیں۔ جو بائیڈن نے کینسر کے خلاف تحقیق اور شعور بیدار کرنے کے لیے بے شمار خدمات انجام دی ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ وہ اپنے عزم اور حوصلے سے اس چیلنج کا بھی مقابلہ کریں گے۔”

جو بائیڈن کی سیاسی زندگی عوامی خدمت اور فلاحی اقدامات سے بھری رہی ہے، خصوصاً صحت کے شعبے میں ان کی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان کی بیماری نے دنیا کو ایک بار پھر یاد دلایا ہے کہ انسانیت سیاسی سرحدوں سے ماورا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین، شوبز شخصیات، عالمی رہنما اور عام شہریوں کی بڑی تعداد بھی بائیڈن کی صحت یابی کے لیے دعا گو ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن ہمیشہ دوسروں کی مدد کے لیے کھڑے ہوئے، اب وقت ہے کہ دنیا ان کے ساتھ کھڑی ہو۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button