دوحہ: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر میں ایک اہم بزنس راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے غزہ کے مستقبل کے لیے ایک جرات مندانہ تجویز پیش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دنیا تیار ہو تو امریکہ غزہ کو "آزادی زون” میں تبدیل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا:
"غزہ میں اب کچھ بچا نہیں، میں نے وہاں کی فضائی تصاویر دیکھی ہیں۔ عمارتیں زمین بوس ہیں اور لوگ ملبے کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، جو ناقابل قبول ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ:
"اگر ضرورت پڑی تو میں فخر سے کہوں گا کہ امریکہ آگے بڑھے اور غزہ کو ایک مثبت تبدیلی کا مرکز بنائے۔ ہم وہاں کچھ اچھا، کچھ نیا تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔”
غزہ کے لیے نئے امکانات کی نوید
صدر ٹرمپ کے اس بیان کو کئی مبصرین نے ایک انسانی ہمدردی پر مبنی پیش رفت قرار دیا ہے، جو تباہ شدہ علاقے میں تعمیر نو، تعلیم، صحت اور اقتصادی بحالی کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔
یہ تجویز اس وقت سامنے آئی ہے جب غزہ کی صورتحال عالمی برادری کے لیے ایک بڑا انسانی چیلنج بن چکی ہے۔ سابق امریکی صدر کے مطابق، اگر عالمی برادری ساتھ دے تو غزہ کو "آزادی زون” بنا کر ایک ماڈل ریجن کی شکل دی جا سکتی ہے۔
قطر میں عالمی توجہ کا مرکز
یہ بیان قطر میں اس وقت دیا گیا جب صدر ٹرمپ ایک بزنس فورم میں شریک تھے۔ قطر، جو طویل عرصے سے حماس کے سیاسی دفتر کی میزبانی کرتا آیا ہے، وہاں اس بیان نے بین الاقوامی توجہ حاصل کر لی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر اس تجویز پر عالمی سطح پر اتفاق ہو جائے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔






