لندن: برطانوی حکومت نے امیگریشن کے نظام میں نئی تبدیلیوں کا عندیہ دیا ہے جن کا مقصد نہ صرف نیٹ مائیگریشن کو کم کرنا ہے بلکہ مقامی ہنر مند افراد کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا بھی ہے۔
نئے حکومتی وائٹ پیپر کے مطابق ان آجروں کے لیے نئی شرائط متعارف کرائی جا رہی ہیں جو بیرون ملک سے انجینئرز، آئی ٹی پروفیشنلز اور ٹیلی کمیونیکیشن اسٹاف کی بھرتی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان اقدامات کے تحت آجروں کو لازمی طور پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ مقامی سطح پر افراد کی تربیت اور ترقی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
یہ پالیسی اس وقت سامنے آئی ہے جب برطانیہ میں نیٹ مائیگریشن کی شرح گزشتہ سالوں میں ریکارڈ سطح یعنی سالانہ 9 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے بعد امیگریشن سے متعلق عوامی خدشات کے پیش نظر اس چیلنج کا سامنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے نہ صرف مقامی افراد کو تربیت اور روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے بلکہ معیشت میں خود انحصاری کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ حکومت کا یہ اقدام ایک متوازن اور پائیدار لیبر مارکیٹ کے قیام کی جانب ایک مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے۔






