اسلام آباد / واشنگٹن — خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سفارتی مداخلت کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک گفتگو کی۔ مارکو روبیو نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر کشیدگی کم کریں اور براہ راست مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں امن کے لیے خدشات بڑھ رہے تھے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی وزیر خارجہ سے گفتگو میں ملک کے دفاع کے لیے پاکستانی قوم کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام بھارت کی بلااشتعال کارروائیوں پر شدید غصے میں ہیں۔
مارکو روبیو نے بھارتی حملوں میں پاکستانی شہریوں کی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ کی بھرپور سفارتی حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کے برعکس، دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کو مسئلے کا مؤثر حل قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کی مداخلت ایک مثبت پیشرفت ہے اور اگر دونوں ممالک نے سنجیدگی دکھائی تو جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔






