واشنگٹن/اسلام آباد: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کو ایک ذمے دار ریاست قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ بھارت پہلگام واقعے پر ایسا کوئی ردعمل نہیں دے گا جو جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈالے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی سے بچنے کے لیے صبر و تحمل اور مشترکہ تحقیقات ضروری ہیں۔
جے ڈی وینس نے بین الاقوامی نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ واشنگٹن کی خواہش ہے کہ پاکستان اور بھارت مل کر پہلگام واقعے کی تحقیقات کریں، تاکہ حقائق پر مبنی مؤقف اپنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پاکستان اس معاملے پر تعاون کے لیے تیار ہے اور امن کو اولین ترجیح دیتا ہے۔
یاد رہے کہ 22 اپریل کو پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کے بعد بھارتی حکومت نے فوری طور پر پاکستان پر الزامات عائد کیے، جسے پاکستان نے واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ یا کسی غیر جانبدار ادارے کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر امریکی صدر سمیت عالمی رہنماؤں نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ کسی قسم کے یکطرفہ الزامات سے گریز کیا جائے اور خطے کے امن کو برقرار رکھنے کے لیے رابطے اور تعاون کو ترجیح دی جائے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ رابطے کیے ہیں، جس میں انہوں نے تحمل اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
بین الاقوامی حلقے اس پیش رفت کو خطے کے لیے مثبت اور اہم قرار دے رہے ہیں، جو کشیدگی کے بجائے پرامن اور تعمیری حل کی طرف بڑھنے کا عندیہ دیتی ہے۔






