پی ٹی آئی نے قائمہ کمیٹی داخلہ میں عمران خان سے ملاقات کا معاملہ اٹھا دیا
قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات کا معاملہ زیر بحث آیا۔
حامد رضا نے کہا کہ جب ہم پی ٹی آئی بانی سے جیل میں ملنے جاتے ہیں تو وہاں پولیس ہمارے ساتھ کیا کرتی ہے۔
نثار جٹ نے سوال اٹھایا کہ کیا اسلام آباد پولیس کا کام پارلیمنٹرینز کو ہراساں کرنا رہ گیا ہے؟
حامد رضا نے اعتراض اٹھایا کہ اسلام آباد پولیس کی کارکردگی کیا ہے؟ چوری اور ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔
طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کا اختیار میرے پاس ہے ہم جواب دیں گے۔ اگر کوئی اور ادارہ ملوث ہے تو وہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ اسلام آباد پولیس کے جواب کے لیے اسے اگلے ایجنڈے پر رکھیں۔
زرتاج گل نے کہا کہ جب میں پی ٹی آئی کے بانی سے ملنے جاتی ہوں تو مجھے 6-6 گھنٹے باہر رکھا جاتا ہے اور ان سے ملنے نہیں دیا جاتا۔ یہی کچھ عمران خان کی بہنوں کے ساتھ کیا جاتا ہے، یہ روز کا تماشا بن چکا ہے۔
حامد رضا نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد کو بلایا جائے کیونکہ وہ متعدد نوٹسز کے باوجود میری انسانی حقوق کمیٹی میں نہیں آئے۔






