امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو ایک اپیل تک وینزویلا کے تارکین وطن کو زبردستی ملک بدر کرنے سے روک دیا ہے۔
سپریم کورٹ کا حکم وینزویلا کے تارکین وطن کی جانب سے دائر مداخلت کے لیے دائر درخواست پر جاری کیا گیا۔
درخواست گزاروں نے کہا کہ انہیں عدالتی نظرثانی کے بغیر جبری ملک بدری کا سامنا ہے، ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ تارکین وطن گینگ ممبر ہیں اور وائٹ ہاؤس بالآخر عدالت کے فیصلے کے خلاف غالب آئے گا۔
تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے یہ نہیں کہا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کی تعمیل نہیں کرے گی۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کے 50 سے زائد تارکین وطن کو زبردستی ملک بدر کر رہی ہے۔
200 سے زیادہ وینزویلا کے تارکین وطن اور متعدد سلواڈور شہریوں بشمول کلمار گارسیا کو پہلے ہی ایل سلواڈور کی جیلوں میں بھیجا جا چکا ہے۔





