اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

عمران خان کیخلاف ہرجانے کے دعوے پر سماعت، شہباز شریف کی ویڈیو لنک پر پیشی، جرح کے دوران بجلی بند

پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کے دعوے کی سماعت کے دوران شہباز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے اور پی ٹی آئی کے بانی کے وکیل نے ان پر جرح کی۔

شہباز شریف نے جرح سے قبل حلف اٹھاتے ہوئے کہا کہ جو بھی کہوں گا سچ بولوں گا غلط بیانی نہیں کروں گا۔ یہ درست ہے کہ جرح کے دوران میرا وکیل میرے ساتھ بیٹھا ہے۔ یہ سچ ہے کہ مدعا علیہ کا وکیل وہاں نہیں ہے جہاں میں بیٹھا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ کابینہ تمام قوانین اور قواعد کو منظوری کے لیے صدر کو بھیجنے سے پہلے ان کا جائزہ لیتی ہے۔ میں نے پی ٹی آئی کے بانی کے خلاف ہرجانے کے دعوے پر ذاتی طور پر دستخط کیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ میں نے دعویٰ دائر کرنے سے پہلے ہتک عزت کا قانون پڑھا تھا یا نہیں۔ دعوے کی تصدیق کے لیے اسٹامپ پیپر میرے وکیل کے ایجنٹ کے ذریعے خریدا گیا تھا۔ اوتھ کمشنر دعوے کی تصدیق کے لیے خود میرے پاس آئے۔ اوتھ کمشنر کا نام،

شہباز شریف کا کہنا ہے کہ یہ سچ ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی نے آج تک میرے سامنے یہ الزام نہیں لگایا، یہ سچ ہے کہ میں نے دعویٰ ڈسٹرکٹ کورٹ میں نہیں بلکہ ڈسٹرکٹ جج کے سامنے کیا اور نہ ہی میڈیا کے ادارے، ملازم، یا افسر کو دعوے میں فریق بنایا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے تمام الزامات 2 ٹی وی چینلز کے پروگرامز پر لگائے، مجھے نہیں معلوم دونوں نیوز چینلز کے یہ ٹی وی پروگرام کس شہر سے نشر ہوئے،

بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ یہ درست ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے آج تک آپ کے خلاف خود بیان نہیں کیا۔جس پر شہباز شریف نے کہا کہ آئی ٹی وی چینلز پر تمام معلومات خود ہی بتاتی ہیں، مجھے دونوں چینلز کے مالک یا ملازم بانئ پی ٹی آئی۔وکیل نے استفسار کیا کہ یہ درست ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کو جج کی گواہی دینے کا اختیار دینا ہے۔

جس پر شہباز شریف وکیل مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ یہ قانونی نکتہ فیصلہ ہو گا۔عدالت نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ آپ اس کا جواب دینا چاہتے ہیں؟ جس پر شہباز شریف نے کہا ہے کہ آخری جج کو غلط حالت جج دعوے کی گواہ یا ثبوت ریکارڈ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یاد نہیں، 2017ء میں جب الزام لگایا تو مسلم لیگ ن کا صدر تھا یا نہیں، 2017ء میں میرا مسلم لیگ ن سے تعلق تھا، آج بھی یہ درست ہے کہ جب 2017ء میں الزام لگایا تو پی ٹی آئی کے چیئرمین نے جب مسلم لیگ ن کے صدر کو نوازا تو مسلم لیگ ن کی سیاست شروع ہو گئی۔

عدالت نے شہباز شریف پر مزید جرح جواب دیتے ہوئے کہا کہ 25 اپریل تک ملتوی کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے پاناما کیس واپس لینے کے لیے 10 ارب کی پیشکش کا الزام لگایا تھا جس کے خلاف شہباز شریف نے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا تھا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button