عمران خان کی تین بہنوں سمیت 7 رہنما اڈیالہ کے باہر سے رہا
راولپنڈی میں پولیس نے تحریک انصاف کے بانی کی بہن علیمہ خان اور دیگر کو حراست سے رہا کر دیا۔ پولیس نے انہیں لاہور واپس جانے کی اجازت دے دی۔ تحریک انصاف کے بانی سے کسی کو ملنے نہیں دیا گیا۔
علیمہ خان اور دیگر اب بھی ہوٹل میں موجود ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما اب ہماری حراست میں نہیں ہیں۔ سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں سے ڈرنے والے نہیں، اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہیں‘ تحریک انصاف کے بانی کی بہنوں سمیت 7 افراد کو حراست میں لینے کے بعد پولیس نے چکری انٹر چینج کے قریب قیدیوں کی وین سے سب کو اتار لیا۔ پولیس نے انہیں لاہور واپس جانے کی اجازت دے دی۔ علیمہ خان اور دیگر اب بھی ہوٹل میں موجود ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما اب ہماری حراست میں نہیں ہیں۔ علیمہ خان، عظمیٰ خان، نورین خان، عمر ایوب، احمد بچھر، حامد رضا کو مقامی ہوٹل لے جایا گیا، چکری پولیس کی بھاری نفری بھی ہوٹل پہنچ گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی تین بہنوں سمیت گرفتار افراد کو اڈیالہ جیل سے کہیں دور رہا کیا جائے گا۔
سلمان اکرم راجہ لاہور میں خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ملک پر 78 سال سے ظلم کا راج ہے، کوئی گرفتاریوں سے نہیں ڈرتا، کیا ملک دہشت گردی کی بنیاد پر چلے گا؟سلمان اکرم راجہ نے خبردار کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی کو رہا نہ کیا گیا تو احتجاج ہوگا، عوام کے بنیادی حقوق چھین نہیں سکتے۔
.قبل ازیں دوران حراست پی ٹی آئی رہنماؤں کا پولیس سے جھگڑا ہوا، پولیس کا کہنا تھا کہ وہ سب کو گرفتار کر لے گی، پولیس نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو مجموعی طور پر 7 افراد کے وارنٹ گرفتاری دکھائے۔
تحریک انصاف کے بانی کی بہنوں اور کزن کے وارنٹ گرفتاری بھی دکھا دیے گئے۔ پولیس نے صاحبزادہ حامد رضا اور احمد خان بچھر کے وارنٹ بھی دکھائے، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں عظمیٰ خان، علیمہ خان اور نورین خان کو پولیس قیدی وین میں بٹھا کر لے گئی۔
پلازہ کے باہر کارکنان نے نعرے بازی کی۔اس سے قبل راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے روز پولیس نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کو دہگل چوکی پر روک لیا تھا۔ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں دہگل چوکی کے قریب موجود تھیں‘ گورکھپور ناکہ پر اپوزیشن رہنما عمر ایوب، حامد رضا، احمد خان فجر، زرتاج گل موجود تھے۔
پولیس نے رہنماؤں اور کارکنوں کو منتشر ہونے کی تنبیہ کی جس کے بعد کارکن منتشر ہو گئے تاہم رہنما وہیں ڈٹے رہے۔عمر ایوب نے بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان اور دیگر کارکنوں سے بھی مشاورت کی۔ پولیس نے قیدیوں کی وین کو دہگل طلب کیا تھا۔
پی ٹی آئی کی قیادت اڈیالہ روڈ پر زیر تعمیر پلازہ میں موجود تھی۔ پولیس نے پلازہ کا مین گیٹ بند کر دیا۔
قیدی وین میں بیٹھنے سے پہلے عمر ایوب کی گفتگو اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے قیدی وین میں بیٹھنے سے پہلے کہا کہ دیکھو یہ رہنما اپوزیشن پنجاب اسمبلی کو گرفتار کر رہے ہیں، میں سب کو دیکھوں گا، یہ توہین عدالت ہیں، ہمارا آئینی عہدہ ہے اور کوئی خواتین نہیں ہیں۔
عمر ایوب نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے اس قوم کے لیے قربانیاں دی ہیں، میری جان ہمارے وزیراعظم کے لیے تیار ہے۔ عمر ایوب نے وین میں بیٹھتے ہی نعرے لگائے۔ علیمہ خان کی گرفتاری سے قبل میڈیا سے گفتگو پی ٹی آئی کے بانی کی بہن علیمہ خان نے گرفتاری سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب پی ٹی آئی کے بانی کو الگ تھلگ کرنے کے لیے ہو رہا ہے، بانی کی بچوں، اہل خانہ اور ڈاکٹروں سے ملاقاتیں بند کر دی گئی ہیں، علیمہ خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی، وکلا سے پچھلی ملاقاتوں میں پی ٹی آئی کے بانی، سلمان خان سے ملاقاتیں کیں۔
بیرسٹر گوہر کو اندر جانے دیا گیا، ظہیر عباس چوہدری کو ملاقات سے روک دیا گیا، پی ٹی آئی کے بانی کے تمام حقوق چھین لیے گئے، جن لوگوں نے پی ٹی آئی کے بانی سے ملنا ہے انہیں روک رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہاں پر امن بیٹھے ہیں، یہ غیر آئینی باتیں کر رہے ہیں، اگر وہ ہمیں جیل لے جائیں تو ٹھیک ہے، اگر وہ ہمیں کہیں چھوڑ کر جائیں تو ہم واپس آجائیں گے، جب تک بانی پی ٹی آئی سے نہیں ملیں گے ہم اڈیالہ سے باہر رہیں گے۔ ہم اڈیالہ جیل کے اندر جائیں گے یا باہر بیٹھیں گے؟






