یو اے ای: قانون سازی اور عوامی خدمات کیلئے آرٹیفیشل انٹیلجنس کے استعمال کا فیصلہ
متحدہ عرب امارات نے قانون سازی اور عوامی خدمات کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے وفاقی اور مقامی قوانین کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے عدالتی فیصلوں، انتظامی طریقہ کار اور عوامی خدمات کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔
متحدہ عرب امارات کی وفاقی کابینہ کا اجلاس ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی صدارت میں ہوا۔
اجلاس میں متحدہ عرب امارات میں قانون سازی کو بہتر بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔
وفاقی کابینہ نے قانون سازی کے لیے انٹیلی جنس آفس کے قیام کی منظوری دے دی جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تمام وفاقی اور مقامی قوانین کو مربوط کرے گا۔
اس منصوبے کے تحت عدالتی فیصلوں، انتظامی امور اور عوامی خدمات کو جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کیا جائے گا۔
شیخ محمد بن راشد نے کہا کہ یہ نیا نظام بڑے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے قوانین کے اثرات کا جائزہ لے گا اور قانون سازی کے عمل کو 70 فیصد تک تیز کرنے میں مدد کرے گا۔اماراتی کابینہ نے ’پلانٹ دی ایم ایس‘ مہم کے تحت پیش رفت کا جائزہ بھی لیا۔
رواں برس اپریل 2025ء تک مہم کے تحت 4 لاکھ 60 ہزار درخت جاری ہیں جبکہ 6 لاکھ پودے تقسیم ہو گئے ہیں۔






