امریکی صدر ٹرمپ نے چین کے علاوہ باقی دنیا پر ٹیرف تین ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے تاہم اس دوران ان ممالک پر 10 فیصد ٹیرف برقرار رہے گا جب کہ انہوں نے فوری طور پر چین پر ٹیرف بڑھا کر 125 فیصد کر دیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا ہے کہ چین جان لے کہ دھوکہ دہی مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔
امریکی صدر کی جانب سے محصولات کو معطل کرنے کے فیصلے کے فوری بعد دنیا بھر میں تیل اور اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست اضافہ ہوا، تیل کی قیمتوں میں تقریباً چار فیصد اضافہ ہوا۔
امریکی اسٹاک مارکیٹ میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ہوا۔
علاوہ ازیں امریکا کی جانب سے یورپی ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے جواب میں یورپی یونین نے بھی امریکا پر 25 فیصد ٹیرف کی منظوری دے دی جس کا اطلاق 15 اپریل سے ہوگا۔
ادھر بیجنگ کی وزارت تجارت کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر امریکا اس کے راستے پر چلنے پر اصرار کرتا ہے تو چین اس کے خلاف آخری سانس تک لڑے گا۔
چین نے امریکی ٹیکس کے جواب میں 84 فیصد ٹیرف لگا دیا ہے جو کہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔






