واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن اقدام کرتے ہوئے خود کو وینزویلا کا "Acting President” (عبوری صدر) قرار دے دیا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی فوجی اور سیاسی صورتحال نے عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔
ٹروتھ سوشل پر وائرل پوسٹ
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک تصویر شیئر کی جس میں ان کی سرکاری تصویر کے ساتھ انہیں جنوری 2026 سے وینزویلا کے عبوری صدر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس پوسٹ میں انہیں امریکہ کے 45ویں اور 47ویں صدر کے طور پر بھی ظاہر کیا گیا، جو ان کی دوہری قیادت کے دعوے کو تقویت دیتا ہے۔
فوجی کارروائی اور نکولس مادورو کی گرفتاری
یہ پیش رفت امریکی فوج کی جانب سے وینزویلا میں حالیہ کارروائی کے بعد سامنے آئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق:
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کر دیا گیا ہے۔
مادورو پر منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر سنگین جرائم کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ وینزویلا میں سیاسی منتقلی کے عمل کی براہِ راست نگرانی کریں گے۔
تیل کے ذخائر اور معاشی کنٹرول
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ عبوری مدت کے دوران امریکہ وینزویلا کے تیل کی آمدنی کا نگران ہوگا۔ ان کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
آمدنی کا استعمال: تیل سے حاصل ہونے والی رقم وینزویلا اور امریکہ کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہوگی۔
سپلائی کا دعویٰ: وینزویلا 30 سے 50 ملین بیرل تیل امریکہ کو فراہم کرے گا، جسے مارکیٹ کی قیمتوں پر فروخت کیا جائے گا۔
وینزویلا کی اندرونی صورتحال
دوسری جانب، وینزویلا کی نائب صدر اور وزیرِ تیل ڈیلسے روڈریگز نے بھی بطور عبوری صدر حلف اٹھا لیا ہے، جس سے اقتدار کی منتقلی اور قانونی حیثیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ امریکی مداخلت پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے اور ماہرین اسے بین الاقوامی سیاست میں ایک غیر معمولی موڑ قرار دے رہے ہیں۔





