وینزویلا نے پہلی بار سرکاری سطح پر امریکی حملے میں 100 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔
وینزویلا کے وزیرِ داخلہ ڈیوسدادو کابیلو نے کہا ہے کہ دارالحکومت کراکس میں امریکا کی جانب سے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے دوران ہونے والے حملوں میں 100 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔
اپنے بیان میں ڈیوسدادو کابیلو نے کہا کہ ہمارے ملک پر امریکی حملہ انتہائی خوفناک تھا۔ ان کے مطابق اس کارروائی میں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سِیلیا فلوریس بھی زخمی ہوئیں۔
وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ امریکی کارروائی کے دوران صدر مادورو کی اہلیہ سِیلیا فلوریس کو سر پر چوٹ آئی جبکہ صدر نکولس مادورو کو ٹانگ میں شدید چوٹ لگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت صدر مادورو اور ان کی اہلیہ امریکی حراست میں ہیں۔
اس اعلان سے قبل وینزویلا کی جانب سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد جاری نہیں کی گئی تھی۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حملے میں وینزویلا کے 24 فوجی اہلکار اور ملک میں تعینات کیوبا کے 32 اہلکار اور پولیس افسران ہلاک ہوئے تھے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے ایک اندازے کے مطابق بتایا تھا کہ وینزویلا میں کی گئی فوجی کارروائی کے دوران تقریباً 75 افراد ہلاک ہوئے۔
واضح رہے کہ 3 جنوری کو امریکی اسپیشل فورسز نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو کراکس میں رات کے وقت چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔





