دہشت گردی نہیں، صرف عمران خان کوختم کرنےکی باتیں ہیں،‘وزیر اعلیٰ کے پی کا کل کی پریس کانفرنس پر ردعمل خطاب کے دوران آبدیدہ
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ یہاں نیتوں میں واضح فرق نظر آ رہا ہے اور صرف بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو ختم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ہم ماضی میں ملٹری آپریشن کے مناظر دیکھ چکے ہیں اور دوبارہ ایسے حالات نہیں دیکھنا چاہتے۔ ملٹری آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ جذباتی ہو گئے اور آبدیدہ ہوگئے۔
پشاور میں منعقدہ ایک کانووکیشن سے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے شعر پڑھا “میرے ہاتھ میں قلم ہے، میرے ذہن میں اجالا”۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد طلبہ صوبے اور ملک کے لیے اپنی خدمات پیش کریں گے۔ انہوں نے وائس چانسلر کی انگریزی تقریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ انہیں پسند نہیں آئی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ تمام یونیورسٹیوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ہماری قومی زبان اردو ہے، اس لیے تقاریر اردو میں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے پہلے بھی تنبیہ کر چکے ہیں، آئندہ اس معاملے پر سختی ہوگی۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایک مخصوص مائنڈ سیٹ نہیں چاہتا کہ خیبر پختونخوا ترقی کرے۔ انہیں اس بات پر شدید دکھ ہوا کہ حالیہ پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا کو دوبارہ دہشت گردی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بند کمروں میں ہونے والے فیصلے خطرناک ثابت ہوتے ہیں اور صوبے میں ملٹری آپریشن کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ماضی میں 22 بڑے اور 14 ہزار ٹارگٹڈ آپریشن کیے گئے۔ ہم نے پہلے ہی نشاندہی کی تھی کہ دہشت گرد آ رہے ہیں اور رپورٹس بھی دی گئیں۔ اگر آپریشن کرنا ہے تو سیاسی جماعتوں، قبائلی مشران اور صوبے کو اعتماد میں لیا جائے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ملٹری آپریشنز کے نتیجے میں ہمارے اسکول، اسپتال اور گھر تباہ ہوئے۔ آپریشن سے پہلے ایک بھی بھیک مانگنے والا نہیں تھا، مگر آپریشن، ڈرون حملوں اور دھماکوں سے لوگ شہید ہوئے اور آج اپنی عورتوں کو بھیک مانگتے دیکھ کر شرمندگی ہوتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہم ایک بار پھر قربانی دینے کو تیار ہیں۔
وزیراعلیٰ نے الزام لگایا کہ یہاں دہشت گردی ختم کرنے کے بجائے عمران خان اور پی ٹی آئی کو ختم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اگر واقعی دہشت گردی ختم کرنا مقصود ہوتا تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر پالیسی بنائی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے گھر چھوڑے اور ہمیں چار لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا گیا، لیکن ریاست پاکستان نے آج تک وہ رقم ادا نہیں کی۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ہم ملٹری آپریشن کے مناظر دیکھ چکے ہیں اور دوبارہ ایسے حالات نہیں چاہتے۔ اس موقع پر وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہوگئے۔
اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، تعلیم اور روزگار دونوں فراہم کیے جائیں گے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ صوبے کے مستقبل کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو پسماندگی کی طرف دھکیلنے والوں کے برعکس وہ صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔






