اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے اور اس کی بنیادی وجہ وہاں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جانا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے اور ریاست اور عوام کے درمیان ہم آہنگی اس جنگ کی کامیابی کی کلید ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پریس کانفرنس کا مقصد گزشتہ سال انسداد دہشت گردی کے اقدامات کا جائزہ پیش کرنا ہے اور عوام کی توجہ صرف دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں پر مرکوز رکھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سال 2025 دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال رہا۔ گزشتہ سال ملک میں 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 80 فیصد خیبر پختونخوا میں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ سال ملک بھر میں 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن میں سے 14 ہزار 658 خیبر پختونخوا، 58 ہزار 778 بلوچستان اور 1 ہزار 739 ملک کے دیگر علاقوں میں کیے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں بے مثال شدت دیکھی گئی اور سال 2025 میں مجموعی طور پر 2,597 دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں تبدیلی اور دوحہ معاہدے کے بعد افغان گروپ نے دہشت گردی ختم کرنے اور خواتین کی تعلیم یقینی بنانے کے وعدے کیے تھے، مگر دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری رہیں۔

اس موقع پر انہوں نے بھارت کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں پر بھی بات کی اور کہا کہ "معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا ہوا، اسے سبق سکھانا ضروری تھا۔”

آخر میں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا میں زیادہ دہشت گردی کا سبب وہاں دستیاب سیاسی سازگاری اور سیاسی و دہشت گردانہ عناصر کا گٹھ جوڑ ہے، جسے ختم کرنے کے لیے مضبوط قومی ہم آہنگی اور انسداد دہشت گردی کی کوششیں جاری رہیں گی۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button