عدلیہ آزاد ہوتی تو عمران خان جیل میں نہ ہوتے، علیمہ خان
راولپنڈی: انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر 2024 کے احتجاج پر درج مقدمے میں دائر بریت کی درخواست مسترد کر دی۔ اے ٹی سی راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔
عدالت میں سماعت کے دوران علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ 26 نومبر کے احتجاج میں علیمہ خان کا واحد “قصور” بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات اور ان کا پُرامن احتجاج کا پیغام عوام تک پہنچانا تھا، جو آئینی اور جمہوری حق ہے۔ وکیل صفائی کے مطابق مقدمے میں کسی صحافی یا میڈیا ادارے کو نہ تو گواہ بنایا گیا اور نہ ہی نامزد کیا گیا، جبکہ جیل ملاقات میں ہونے والی گفتگو کا بھی کوئی عینی شاہد موجود نہیں۔
وکیل نے مزید کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات علیمہ خان پر عائد الزامات کو ثابت نہیں کرتیں اور یہ مقدمہ سیاسی انتقامی کارروائی کے مترادف ہے۔
دوسری جانب پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان پر اینٹی ٹیررازم ایکٹ کی پانچ دفعات کے تحت فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے، جو تفتیشی رپورٹ کی بنیاد پر ہے۔ انہوں نے “تھیوری آف کنٹرول” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی احتجاج کے دوران منتظمین کے پاس مکمل کنٹرول ہوتا ہے اور احتجاج کے نتائج کے وہی ذمہ دار ہوتے ہیں۔
پراسیکیوٹر کے مطابق علیمہ خان کی میڈیا ٹاکس کے ٹرانسکرپٹس ریکارڈ کا حصہ ہیں، جن میں این او سی کے بغیر احتجاج کرنے کے بیانات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 26 نومبر کے احتجاج کے دوران ایک پولیس اہلکار شہید اور 170 افراد زخمی ہوئے، جبکہ ملک بھر میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں اور حالات مفلوج ہو گئے۔
پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ چونکہ مقدمے میں 18 گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں، اس لیے بریت کی درخواست کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا۔
عدالت نے پراسیکیوٹر کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے علیمہ خان کی بریت کی درخواست مسترد کر دی۔
ادھر عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ انہیں پہلے ہی سزا دینے کے “آرڈرز” موجود ہیں اور اگر اس مقدمے میں نہیں تو کسی اور کیس میں سزا دی جائے گی۔ انہوں نے عدلیہ کی آزادی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر عدلیہ آزاد ہوتی تو بانی پی ٹی آئی جیل میں نہ ہوتے۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ وہ جھوٹے مقدمات سے نہیں ڈرتیں اور اگر فیملی ملاقات کی اجازت نہ ملی تو وہ اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجاً بیٹھیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔






