گیمبیا کے شمال مغربی علاقے میں ایک کشتی کے الٹنے کے نتیجے میں سات افراد کی لاشیں برآمد ہو گئی ہیں، جبکہ 96 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ یہ کشتی ممکنہ طور پر 200 سے زائد تارکین وطن کو لے کر جا رہی تھی۔ گیمبیا کے محکمہ دفاع کے مطابق لاپتہ افراد کی تلاشی اور بازیابی کا عمل ابھی بھی جاری ہے۔
یہ واقعہ دنیا کے سب سے خطرناک مہاجر راستوں میں سے ایک پر پیش آیا، جہاں زیادہ تر مغربی افریقی باشندے اسپین پہنچنے کے لیے کنری جزائر کے راستے سفر کرتے ہیں۔ محکمہ دفاع کے مطابق کشتی آدھی رات کے قریب گیمبیا کے نارتھ بینک ریجن کے ایک گاؤں کے قریب الٹ گئی تھی، اور بعد ازاں ایک ریت کے ٹیلے پر پھنسی ہوئی پائی گئی۔
ریسکیو آپریشن میں تین نیول اسپیڈ بوٹس، ایک ساحلی گشت کی کشتی اور ایک مقامی ماہی گیری کی کشتی شامل تھی، جنہوں نے رضاکارانہ طور پر مدد فراہم کی۔ بچائے گئے 10 تارکین وطن کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، اور انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم، ان کی قومیّت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
یورپی یونین کے مطابق، 2024 میں 46 ہزار سے زائد غیر قانونی مہاجرین کنری جزائر پہنچے، جو ایک ریکارڈ ہے۔ انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق اس دوران 10 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، جو 2023 کے مقابلے میں 58 فیصد اضافہ ہے۔
تاہم یورپی یونین کی سرحدی ایجنسی کے مطابق، 2025 کے پہلے 11 ماہ میں مغربی افریقہ کے راستے یورپی یونین میں غیر قانونی مہاجرت میں 60 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ کمی زیادہ تر ان ممالک کی سخت نگرانی اور یورپی یونین کے ممبر ممالک کے ساتھ مشترکہ اقدامات کی وجہ سے ہوئی۔
یاد رہے کہ اگست 2025 میں بھی گیمبیا سے روانہ ہونے والی ایک کشتی کے الٹنے کے نتیجے میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہوئے تھے، جو حالیہ برسوں کے مہاجر راستوں پر ہونے والے سب سے مہلک حادثات میں سے ایک تھا۔






