ڈھاکا: بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم، خالدہ ضیاء کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ ان کی نماز جنازہ میں عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی، جن میں جنوبی ایشیا کے اعلیٰ حکام اور مقامی رہنماؤں نے بھی اپنی موجودگی سے اس موقع کو یادگار بنایا۔
پاکستان کی نمائندگی اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کی، جبکہ بھارت، بھوٹان اور مالدیپ کے حکام بھی اس تاریخی موقع پر شریک ہوئے۔
خالدہ ضیاء کی آخری رسومات میں ان کے شوہر اور سابق صدر ضیا الرحمان کے ساتھ قومی اعزاز کے ساتھ دفن کیے جانے کا اعلان کیا گیا۔ خالدہ ضیاء کو ان کے جگر کے عارضے سمیت مختلف بیماریوں کی وجہ سے کئی مہینوں تک ڈھاکا کے اسپتال میں زیر علاج رکھا گیا تھا، اور آخرکار گزشتہ روز وہ خالق حقیقی سے جا ملیں۔
خالدہ ضیاء نے بنگلادیش کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا اور مسلم دنیا میں بےنظیر بھٹو کے بعد دوسری خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ 1991 سے 1996 اور پھر 2001 سے 2006 تک بنگلادیش کی وزیراعظم رہیں۔
ان کی وفات کے بعد بنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے پر گہرا اثر پڑا ہے، اور ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے مختلف عالمی رہنماؤں نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔






