پراپرٹی فائلوں میں فراڈ کیخلاف حکومت کا سخت ایکشن، وزیراعظم نے احکامات جاری کردیے
اسلام آباد: ملک میں پراپرٹی فائلوں، پلاٹس، ولاز اور اپارٹمنٹس کے معاملات میں بڑھتے ہوئے فراڈ کے خطرات کے پیش نظر وفاقی حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ وزیراعظم کے احکامات کے مطابق یہ کمیٹی رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں شفافیت اور سرمایہ کاروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرے گی۔
سرکاری نوٹی فکیشن کے مطابق کمیٹی کی سربراہی وزیر قانون و انصاف کریں گے، جبکہ چیئرمین ایف بی آر، تمام صوبوں کے سینئر ممبرز بورڈ آف ریونیو، نیب کا ایک اعلیٰ افسر، چیف کمشنر اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری اور ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کا نمائندہ کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔ کمیٹی کو ایف بی آر کی جانب سے سیکریٹریل معاونت فراہم کی جائے گی۔
کمیٹی کا مقصد پراپرٹی فائل سسٹم کے عملی طریقہ کار اور قانونی حیثیت کا جائزہ لینا، حکومت کے ریونیو پر اس کاروبار کے اثرات کا تجزیہ کرنا اور فائل ہولڈرز و خریداروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سفارشات تیار کرنا ہے۔ اس کے علاوہ کمیٹی ایک واضح قانونی فریم ورک کے تحت پراپرٹی فائلوں کی خرید و فروخت کو منظم کرنے اور ٹیکسوں کی درست وصولی کو یقینی بنانے کی تجاویز پیش کرے گی۔
کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام اسلام آباد اور راولپنڈی کی ہاؤسنگ اسکیمز میں سامنے آنے والے مبینہ بڑے فراڈ کے انکشاف کے بعد کیا گیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ 90 ہزار سے زائد پلاٹس بغیر زمین کے فروخت کیے گئے اور سیکڑوں ارب روپے وصول کیے گئے۔






