اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کا مریم نواز کو چیلنج: ‘آپ پشاور میں جلسہ کریں، میں پنجاب میں کرتا ہوں’

لاہور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے دورہ لاہور کے تیسرے دن مریم نواز کو سیاسی میدان میں مقابلے کا کھلا چیلنج دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب حکومت کو عوامی مقبولیت کا زعم ہے تو وہ کے پی میں جلسہ کر کے دکھائیں، جبکہ وہ خود پنجاب میں جلسہ کریں گے تاکہ واضح ہو جائے کہ عوام کس کے ساتھ ہیں۔

"ہم سکھائیں گے کہ وزیراعلیٰ کا احترام کیسے ہوتا ہے”
سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ مریم نواز خیبر پختونخوا آئیں، ہم انہیں دکھائیں گے کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ کا استقبال اور احترام جمہوری اور مہذب انداز میں کیسے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مریم نواز کو تیاری کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ کے پی اور پنجاب کے جلسوں سے ثابت ہو جائے گا کہ کون "فارم 47” کی پیداوار ہے اور کون عوام کا حقیقی نمائندہ۔

پنجاب میں "سیاہ دور” کا نفاذ
سہیل آفریدی نے پنجاب کی انتظامی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

فسطائیت اور جبر: انہوں نے الزام لگایا کہ پنجاب میں فسطائیت کا دور ہے جہاں گھروں پر چھاپے، شیشے توڑنا اور ہراساں کرنا معمول بن چکا ہے۔

رکاوٹیں: وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ان کی آمد سے قبل سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور ان کی نقل و حرکت روکنے کے لیے سڑکیں بند کی گئیں۔

مزارِ اقبال پر اندھیرا: انہوں نے انکشاف کیا کہ مزارِ اقبال پر حاضری کے وقت جان بوجھ کر لائٹس بند کر دی گئیں اور فوڈ اسٹریٹ کو زبردستی بند کروایا گیا تاکہ وہ عوام سے نہ مل سکیں۔

ملٹری آپریشنز پر دو ٹوک موقف
دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے ایک نئی بحث چھیڑ دی:

پالیسی کی ناکامی: انہوں نے کہا کہ 22 بڑے آپریشنز کے باوجود دہشت گردی ختم نہیں ہوئی، جس کا مطلب ہے کہ پالیسی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

عوامی جرگہ: وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ کے پی اسمبلی کے 15 نکاتی اعلامیے کے مطابق تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن مسئلے کا حل نہیں۔

متبادل راستہ: انہوں نے قبائلی مشران، علماء اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لے کر مذاکرات اور عوامی حمایت سے پالیسی بنانے پر زور دیا۔

"پنجاب کا میڈیا آواز اٹھائے”
سہیل آفریدی نے پنجاب کے صحافیوں سے اپیل کی کہ اگر پی ٹی آئی کی کوریج پر پابندی ہے تو کم از کم پنجاب کے عوام پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف ضرور آواز بلند کریں۔ انہوں نے حسان نیازی کے گھر جانے سے روکنے کی بھی شدید مذمت کی اور اسے آمرانہ مائنڈ سیٹ کی عکاسی قرار دیا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button