نیویارک/اسلام آباد (ویب ڈیسک): ایک معتبر عالمی جریدے نے سال 2025 کو پاکستان کی عالمی سیاست میں واپسی کا سال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک نے اپنی دفاعی صلاحیت، مؤثر سفارت کاری اور تزویراتی (اسٹریٹجک) اہمیت کی بدولت واشنگٹن سمیت عالمی طاقتوں کا اعتماد دوبارہ بحال کر لیا ہے۔
پاک امریکہ تعلقات: ‘وار آن ٹیرر’ سے ‘اکانومی’ تک کا سفر
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے، جہاں اب تعلقات کو صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بجائے معیشت اور حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے:
کلیدی اتحادی: ٹرمپ انتظامیہ کی نومبر 2025 کی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں پاکستان کو امریکی مفادات کے لیے ایک کلیدی اتحادی قرار دیا گیا ہے۔
جغرافیائی اہمیت: واشنگٹن اب پاکستان کو جنوبی ایشیا، خلیج اور وسط ایشیا کے درمیان ایک ‘مرکزی پل’ کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔
کشمیر پر تائید: جریدے کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا حالیہ بیان پاکستان کے سفارتی مؤقف کی تائید ہے، جس سے عالمی محاذ پر بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو واضح برتری حاصل ہوئی ہے۔
دفاعی ساکھ اور پاک بھارت کشیدگی
جریدے نے مئی 2025 میں ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اس دوران پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت کا لوہا منوایا اور واشنگٹن کو ڈی ایسکلیشن (کشیدگی میں کمی) کے لیے فعال کردار ادا کرنے پر مجبور کیا۔ اس سے پاکستان کی عالمی ساکھ مزید مضبوط ہوئی۔
معاشی سنگِ میل: ریکوڈک اور گوادر
پاکستان نے سی پیک (CPEC) اور مغربی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے نئے معاشی راستے کھولے ہیں:
ریکوڈک پروجیکٹ: امریکی ایگزم بینک (EXIM Bank) نے بلوچستان میں ریکوڈک کے مقام پر معدنیات کی کان کنی کے لیے 1.25 بلین ڈالر کی فنانسنگ منظور کی ہے۔
معدنیات کے معاہدے: پاکستان اور امریکہ کے درمیان معدنیات کی ریفائننگ اور پروسیسنگ کے لیے 500 ملین ڈالر کے متعدد سودے طے پائے ہیں۔
گوادر بندرگاہ: جریدے نے گوادر کو پاکستان کا ایک عظیم اثاثہ قرار دیا ہے جو مستقبل میں خطے کی تجارت کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سفارتی فتح
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اپنی لابنگ اور پالیسی انگیجمنٹ کے ذریعے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو ‘پائیدار مفاد’ کی سمت موڑ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں پاکستان کو معاشی استحکام اور عالمی تنہائی سے نکالنے میں سنگِ میل ثابت ہوں گی۔






