اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

مصطفیٰ کمال کا بانی ایم کیو ایم پر سنگین الزام: "عمران فاروق کے قتل میں براہِ راست ملوث ہیں”

کراچی (نیوز ڈیسک): متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے بانی ایم کیو ایم پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے۔ کراچی میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل، چندہ مہم اور ‘را’ سے تعلقات کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کیے۔

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس اور "سالگرہ کا تحفہ”
مصطفیٰ کمال نے براہِ راست الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے پیچھے بانی ایم کیو ایم کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا:

"میرے پاس اس قتل کی تمام تفصیلات موجود ہیں۔”

بانی ایم کیو ایم نے مبینہ طور پر قاتلوں کو یہ قتل "سالگرہ کے تحفے” کے طور پر پیش کرنے کا سنسنی خیز کھیل کھیلا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ برطانیہ جا کر اس کیس میں تعاون کرنے اور حقائق سامنے لانے کے لیے تیار ہیں۔

میت پر سیاست اور چندہ مہم کا انکشاف
ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ کے حالیہ انتقال اور ان کی میت پاکستان منتقل کرنے کے حوالے سے مصطفیٰ کمال نے بانی ایم کیو ایم کو "ڈرامہ باز” قرار دیتے ہوئے کہا:

میت پاکستان بھیجنے کے نام پر دنیا بھر سے لاکھوں پاؤنڈز کا چندہ جمع کیا گیا۔

حقیقت میں بانی ایم کیو ایم کے تکیے کے نیچے سے 5 لاکھ پاؤنڈ اور دفتر سے 6 لاکھ پاؤنڈ برآمد ہوئے، مگر عمران فاروق کی بیوہ کے لیے 6 ہزار پاؤنڈ بھی نہیں نکلے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بانی ایم کیو ایم "لاشوں پر آئٹم سانگ” کرتے ہیں اور سوگ پر بھی اپنی سیاست چمکاتے ہیں۔

قومی غداری اور ‘را’ سے فنڈنگ کے الزامات
وفاقی وزیر نے بانی ایم کیو ایم کو "قومی مجرم اور ملک کا غدار” قرار دیتے ہوئے کہا:

وہ گزشتہ 25 سال سے بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ سے پیسے وصول کر رہے تھے۔

مہاجروں کے حقوق کے نام پر صرف ذاتی مفادات پورے کیے گئے اور قوم کے بچوں کا مستقبل برباد کیا گیا۔

برطانیہ کی عدالتوں سے گریز
مصطفیٰ کمال نے سوال اٹھایا کہ بانی ایم کیو ایم برطانیہ کی عدالتوں میں عمران فاروق قتل کیس کھلوانے سے کیوں کتراتے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ ایسے لوگ خود اپنی موت کا سامان کرتے ہیں اور پھر دوسروں کے دکھوں پر سیاست کرتے ہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button