توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان
اسلام آباد: توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کے خلاف بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے لیے اپیلیں تیار کر لی ہیں۔ یہ اپیلیں سینئر قانون دان بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے پیر کے روز دائر کی جائیں گی۔
اپیل کے اہم قانونی نکات
تیار کی گئی اپیلوں میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے اور درج ذیل قانونی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں:
گواہان کی ساکھ پر سوال: اپیل کے متن میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے انعام اللہ شاہ کے بیان پر انحصار کیا، جو کہ پہلے ہی برطرف ہو چکے تھے۔ برطرف شدہ گواہ کے بیان کو سزا کی بنیاد بنانا قانونی طور پر درست نہیں۔
سلطانی گواہ کا معاملہ: درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ صہیب عباسی کو غیر قانونی طور پر سلطانی گواہ (وعدہ معاف گواہ) بنایا گیا، جو قانون کے خلاف ہے۔
دہری سزا کا اعتراض: متن میں واضح کیا گیا ہے کہ قانون کے مطابق ایک ہی جرم میں کسی بھی شخص کو متعدد مرتبہ سزا نہیں دی جا سکتی۔
عدالتی دائرہ اختیار: اپیل میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ سپیشل سنٹرل عدالت کو اس مقدمے کی سماعت کا سرے سے اختیار ہی حاصل نہیں تھا۔
بلغاری سیٹ اور سیاسی انتقام کا مؤقف
اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ:
بلغاری سیٹ توشہ خانہ کے رائج قوانین کے مطابق ہی سابق حکمران جوڑے نے اپنے پاس رکھا تھا۔
یہ مقدمہ مکمل تفتیش کے بغیر قائم کیا گیا ہے اور اس کا مقصد صرف سیاسی انتقام ہے۔
درخواست گزار ‘سرکاری ملازم’ کی تعریف میں نہیں آتے، اس لیے ان کے خلاف اس قانون کے تحت کارروائی کرنا قانون کے منافی ہے۔
استدعا
اپیل میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ استغاثہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، لہٰذا ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر انہیں بری کیا جائے۔






