لندن (مانیٹرنگ ڈیسک): لندن کے میئر صادق خان نے شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے کنجیشن چارج (ٹریفک فیس) کے نظام میں بنیادی تبدیلیوں اور چارجز میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان تبدیلیوں کا سب سے بڑا اثر الیکٹرک گاڑیوں کے مالکان پر پڑے گا جو اب تک اس فیس سے مستثنیٰ تھے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے لیے رعایت کا خاتمہ
برطانوی میڈیا کے مطابق میئر لندن نے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے حاصل مکمل رعایت (Exemption) کو فوری طور پر ختم کر دیا ہے۔
آج سے اطلاق: الیکٹرک گاڑیوں پر بھی اب کنجیشن چارج لاگو ہوگا۔
نیا رعایتی نظام (2 جنوری 2026): مستقبل میں ایک نیا نظام متعارف کرایا جائے گا جس کے تحت ‘آٹو پے’ (Auto Pay) میں رجسٹرڈ گاڑیوں کو جزوی رعایت ملے گی:
الیکٹرک کاریں: 25 فیصد رعایت۔
بڑی الیکٹرک وینز اور گاڑیاں: 50 فیصد رعایت۔
فیس اور جرمانوں میں اضافہ
نئی پالیسی کے تحت لندن کے مخصوص علاقوں میں داخلے کی روزانہ فیس میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے:
روزانہ چارج: 15 پاؤنڈ سے بڑھا کر 18 پاؤنڈ کر دیا گیا ہے۔
لیٹ فیس: اگر ادائیگی وقت پر نہ کی گئی تو چارج بڑھ کر 21 پاؤنڈ تک ہو جائے گا۔
میئر لندن کا موقف
میئر صادق خان نے ان تبدیلیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ لندن کی معیشت کی بہتری کے لیے سڑکوں پر ٹریفک کا رش کم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
"کلینر وہیکل ڈسکاؤنٹ (صاف ستھری گاڑیوں پر رعایت) شروع ہی سے ایک عارضی اقدام تھا۔ اب وقت آگیا ہے کہ شہر کے ٹرانسپورٹ نظام کو متوازن بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں۔” — صادق خان، میئر لندن
شہریوں پر اثرات
ان تبدیلیوں کے باعث لندن میں الیکٹرک گاڑیاں چلانے والے ہزاروں افراد اب اضافی مالی بوجھ تلے دب جائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے جہاں ایک طرف لندن کے ریونیو میں اضافہ ہوگا، وہی دوسری طرف ماحول دوست گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے حوالے سے بحث چھڑ سکتی ہے۔






