اہم خبریںتازہ تریندنیا

دنیا کے سرد ترین شہر کا درجہ حرارت منفی 56 ڈگری تک گرگیا

ماسکو (نیوز ڈیسک) دنیا کے سرد ترین شہر کے طور پر مشہور روسی شہر یاکوتسک میں سردی نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں، جہاں حالیہ لہر کے دوران درجہ حرارت منفی 56 ڈگری سیلسیئس تک گر گیا ہے۔ شدید سرد ہواؤں نے پوری ریاست سائبیریا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس سے نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

دنیا کا سرد ترین مقام: غیر معمولی حالات
روسی محکمہ موسمیات کے مطابق یاکوتسک میں اگرچہ منفی 40 ڈگری درجہ حرارت ایک معمول کی بات سمجھی جاتی ہے، تاہم اس سال موسم سرما کی شدت غیر معمولی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہوا کے دباؤ کی وجہ سے "محسوس کیا جانے والا درجہ حرارت” (Feels Like) منفی 56 سے بھی کہیں زیادہ ہے، جو انسانی برداشت کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔

پیشگوئی: محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں پارہ منفی 60 ڈگری تک گر سکتا ہے۔

آبادی کی صورتحال: ساڑھے تین لاکھ کی آبادی والے اس شہر کے مکینوں نے ان جان لیوا حالات سے نمٹنے کے لیے خصوصی انتظامات کر رکھے ہیں، تاہم حالیہ سردی نے ہر شے کو جما کر رکھ دیا ہے۔

ماسکو میں بھی سردی کا ریکارڈ
سائبیریا کے ساتھ ساتھ روس کا دارالحکومت ماسکو بھی شدید سردی کی لہر کی زد میں ہے۔

رواں موسم کی سرد ترین رات: ماہرینِ موسمیات کے مطابق 23 اور 24 دسمبر کی درمیانی رات ماسکو کا درجہ حرارت منفی 15.7 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، جو اس سیزن کی اب تک کی سرد ترین رات رہی ہے۔

اس سے قبل 22 اور 23 دسمبر کی درمیانی رات کم سے کم درجہ حرارت منفی 10.7 ڈگری رہا تھا۔ تاہم ہائیڈرو میٹرولوجیکل سینٹر نے پیشگوئی کی ہے کہ ماسکو میں آنے والے دنوں میں رات کے درجہ حرارت میں معمولی بہتری متوقع ہے۔

حفاظتی اقدامات
شدید ترین سردی کے باعث انتظامیہ نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور خود کو گرم رکھنے کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button