کسی کو اقلیتوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دوں گی، مریم نواز کا کرسمس تقریب سے خطاب
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ جب تک وہ وزیراعلیٰ ہیں، اقلیتوں کے خلاف کسی قسم کی ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی اور وہ ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہوں گی۔
پاکستان کو اقلیت دوست ملک بنانا ہمارا خواب ہے
لاہور میں کرسمس کی ایک پُروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے مسیحی برادری کو مبارکباد پیش کی اور اہم اعلانات کیے۔ ان کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
برابر کے حقوق: وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ پاکستان میں اقلیتوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا اکثریت کا ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم نے یہ خواب پورا کرنا ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں ‘اقلیت دوست’ ملک کے نام سے پہچانا جائے۔”
مذہبی ہم آہنگی: انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کرسمس، ایسٹر، ہولی اور بیساکھی سمیت تمام تہوار سرکاری سطح پر منائے جاتے ہیں۔ اس سال پاکستان کا سب سے بڑا کرسمس ٹری لیبرٹی چوک میں لگایا جا رہا ہے۔
تعلیمی پس منظر اور انصاف: مریم نواز نے بتایا کہ وہ خود کانوینٹ اسکول کی پڑھی ہوئی ہیں اور ان کے فیصلے ہمیشہ انسانیت اور انصاف کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے کسی بھی پروجیکٹ میں کسی سے اس کا مذہب نہیں پوچھا جائے گا۔
سکھ برادری کے لیے ہیلمٹ سے استثنیٰ
وزیراعلیٰ نے ایک اہم انسانی ہمدردی کی مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے سکھ برادری کی درخواست پر ٹریفک حکام کو ہدایت کی ہے کہ انہیں پگڑی کی وجہ سے ہیلمٹ پہننے سے استثنیٰ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میرے لیے تمام پنجابی میرے دل کا حصہ ہیں۔
مینارٹی کارڈ اور مالی امداد
تقریب کے دوران مریم نواز نے مسیحی برادری میں کرسمس گرانٹ کے چیکس اور مینارٹی کارڈز تقسیم کیے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ:
مینارٹی کارڈز کی حد کو ایک لاکھ روپے تک بڑھایا جائے گا۔
پنجاب اقلیتوں کے لیے ایک محفوظ ترین جگہ ثابت ہوگا۔






