فوج اور عوام کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی ہرگز کسی کو اجازت نہیں، کور کمانڈرز کانفرنس
راولپنڈی میں پاک فوج کی 273ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کی۔ کانفرنس میں دہشت گردی، جرائم اور سیاسی مفادات کے درمیان کسی بھی قسم کے گٹھ جوڑ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ بھارتی سرپرستی یافتہ تمام دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور معاونین کے خلاف بلا امتیاز اور بغیر کسی رعایت کے کارروائی کی جائے گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فورم نے دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں شہید ہونے والے معصوم شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور مادرِ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز نے افواجِ پاکستان کی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کو سراہا۔
کانفرنس میں اندرونی و بیرونی سیکیورٹی صورتحال کا جامع جائزہ لیا گیا اور حالیہ مہینوں میں انٹیلی جنس پر مبنی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں افواجِ پاکستان کی کاوشوں کی تعریف کی گئی۔ آرمی چیف نے کہا کہ حکومت، افواجِ پاکستان اور عوام کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں ملک بتدریج مگر یقینی طور پر استحکام اور ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
فورم نے واضح کیا کہ مسلح افواج اور عوام کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور قومی یکجہتی، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے والی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی، چاہے اس کے پیچھے کوئی بھی عناصر ہوں۔
کانفرنس میں بلوچستان حکومت کے خصوصی ترقیاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے دیگر علاقوں میں بھی قومی ایکشن پلان کے تحت عوامی فلاح اور گورننس سے جڑے ایسے ہی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ شرکاء نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی توثیق کی، جبکہ غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا روک ٹوک رسائی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ اعتماد راستے کا مطالبہ کیا گیا۔
کانفرنس کے اختتام پر آرمی چیف نے کمانڈرز کو آپریشنل تیاری، نظم و ضبط، تربیت، جسمانی فٹنس اور جدید جنگی تقاضوں کے مطابق اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار برقرار رکھنے کی ہدایت کی اور قومی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر قسم کے روایتی، غیر روایتی اور ہائبرڈ خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔






