واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2026 میں غیرقانونی تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن میں مزید شدت لانے کی تیاریوں نے امریکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اگلے برس ہونے والے وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور اس پالیسی کے خلاف عوامی سطح پر شدید ردِعمل بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اربوں ڈالر کے نئے فنڈز کے ذریعے امیگریشن مہم کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں کام کی جگہوں اور کاروباری مراکز پر چھاپوں کا دائرہ کار بڑھانا شامل ہے۔ رواں برس وفاقی حکام پہلے ہی امریکہ کے بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کر چکے ہیں، جہاں رہائشی علاقوں میں چھاپوں کے دوران وفاقی ایجنٹوں اور مقامی آبادی کے درمیان تصادم کے واقعات بھی پیش آئے۔
اگرچہ اب تک ان فارمز اور فیکٹریوں پر چھاپوں سے گریز کیا جاتا رہا ہے جو امریکی معیشت کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں اور جہاں بڑی تعداد میں غیرقانونی تارکینِ وطن کام کرتے ہیں، تاہم اب انتظامیہ کی حکمتِ عملی میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔
کانگریس نے جولائی میں منظور کیے گئے ایک بڑے پیکج کے تحت امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) اور بارڈر پیٹرول کو ستمبر 2029 تک 170 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز فراہم کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم ان اداروں کے موجودہ 19 ارب ڈالر کے سالانہ بجٹ کے مقابلے میں غیر معمولی اضافہ ہے۔
انتظامی حکام کے مطابق ان فنڈز سے ہزاروں نئے ایجنٹ بھرتی کیے جائیں گے، نئے حراستی مراکز قائم ہوں گے، مقامی جیلوں سے تارکینِ وطن کی گرفتاریوں کا عمل تیز کیا جائے گا اور غیرقانونی طور پر مقیم افراد کا سراغ لگانے کے لیے نجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کی جائے گی۔
یہ توسیعی منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیاسی محاذ پر صدر ٹرمپ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میامی جیسے شہر میں، جہاں تارکینِ وطن کی بڑی آبادی موجود ہے، تین دہائیوں بعد پہلی بار ڈیموکریٹک میئر ایلین ہگنس کا انتخاب عوامی ردِعمل کی واضح مثال ہے۔
ماہرینِ سیاسیات کے مطابق ووٹرز اب ان اقدامات کو صرف امیگریشن پالیسی کے طور پر نہیں بلکہ انسانی حقوق اور آئینی حدود کی ممکنہ خلاف ورزی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اعتدال پسند ریپبلکن پولیٹیکل اسٹریٹیجسٹ مائیک میڈرڈ کا کہنا ہے کہ محلوں میں نیم فوجی طرز کی کارروائیاں صدر ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں امیگریشن پالیسی پر صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت 50 فیصد تھی، جو دسمبر کے وسط تک کم ہو کر 41 فیصد رہ گئی ہے۔ عوامی بے چینی کی بڑی وجوہات میں نقاب پوش وفاقی ایجنٹوں کی جانب سے رہائشی علاقوں میں آنسو گیس کا استعمال اور بعض امریکی شہریوں کو غلطی سے حراست میں لینے جیسے واقعات شامل ہیں۔






