توشہ خانہ کیس میں ناقابل تردید ثبوت اور شواہد کی بنیاد پر سزاسنائی گئی، عطا تارڑ
اسلام آباد — وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں ناقابلِ تردید ثبوت اور شواہد کی بنیاد پر سزا سنائی گئی اور یہ فیصلہ فیئر ٹرائل کے مکمل عمل کے بعد آیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے عطاء تارڑ نے کہا کہ ایک شخص نے ریاست کو ملنے والے تحفے کو جان بوجھ کر کم قیمت پر ویلیو کروایا جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ کمپنی سے باقاعدہ ویلیوایشن کرائی گئی، تاہم دانستہ طور پر انڈر ویلیو کرایا گیا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ سیاسی بیانات دینا آسان ہے، لیکن 190 ملین پاؤنڈ کیس کا قانونی جواز پوچھا جائے تو جواب میں سیاسی نعرے دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے کسی رکن سے اس معاملے پر کوئی قانونی دلیل سننے کو نہیں ملتی۔
عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ انصاف کا بول بالا ہونا چاہیے اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ انہوں نے جسٹس جہانگیری کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر غلط ثابت ہوا کہ ایلیٹ طبقہ احتساب سے بالاتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جسٹس جہانگیری نے نام اور رول نمبر تبدیل کر کے ڈگری حاصل کی، اور حیرت کا اظہار کیا کہ بعض دانشور یہ کہہ رہے ہیں کہ ڈگری جعلی نہیں بلکہ پرچہ جعلی تھا۔ ان کے مطابق ہر غلط کام پر جواب طلبی ہوگی اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے گا۔






