اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

مولانا فضل الرحمان کا حکومت پر جعلی مینڈیٹ کا الزام، اصل فیصلوں اور عمران خان کی گرفتاری پر سوالات

چکوال: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو جعلی مینڈیٹ کی حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کس کی ہے، اصل فیصلے کون کر رہا ہے اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان گرفتار کیوں ہیں۔

چکوال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پاس اصل عوامی مینڈیٹ موجود نہیں، یہ جعلی مینڈیٹ کے ساتھ حکومت کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جعلی مینڈیٹ کے باوجود بھی یہ حکومت درحقیقت صرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ہے جبکہ پیپلز پارٹی محض سہارا بنی ہوئی ہے، یعنی یہ جعلی اکثریت نہیں بلکہ جعلی اقلیت کی حکومت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب آئین کے خلاف قانون سازی کی جاتی ہے تو اس کا مطلب آئین سے بغاوت ہوتا ہے، جس کے بعد حکمرانوں کا مینڈیٹ خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اپوزیشن جماعتیں باہمی مشاورت سے ایک متفقہ مؤقف سامنے لانا چاہتی ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے 28ویں ترمیم اور نئے صوبوں کے قیام کی بازگشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اصولی بات ایک طرف اور زمینی حقائق دوسری طرف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کی انہوں نے دلائل کے ساتھ مخالفت کی تھی اور نقصانات سے آگاہ بھی کیا تھا، لیکن اس وقت اسٹیبلشمنٹ خود کو عقلِ کل سمجھتی رہی۔ آج وہی لوگ اس فیصلے کو غلط قرار دے رہے ہیں اور اب باقی صوبوں کو تقسیم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت زمینی حالات ایسے فیصلوں کے لیے سازگار ہیں؟ یا کل پھر یہ کہنا پڑے گا کہ ملک کو نقصان پہنچا دیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹا کا انضمام بھی طاقت کے زور پر کیا گیا اور آج وہاں مسلح گروہوں نے قبضہ جما لیا ہے جبکہ ریاست کی رٹ ختم ہو چکی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 75 سے 78 برسوں میں نہ پاکستان کی افغان پالیسی درست رہی اور نہ ہی دہشت گردی کے خلاف پالیسی کوئی مثبت نتیجہ دے سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلے سیاست دانوں کو کرنے چاہییں، طاقت کا استعمال ان فیصلوں کے بعد ہونا چاہیے۔

امیر جے یو آئی (ف) نے کہا کہ پراسیکیوشن اور دیگر اداروں کی خرابیوں پر بھی اجتماعی رائے قائم ہونی چاہیے اور 22 تاریخ کو ہونے والی علما کانفرنس میں اس حوالے سے واضح مؤقف سامنے آ جائے گا۔

مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہ دینے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی جمہوری ملک میں یہ طرزِ عمل قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عمران خان گرفتار کیوں ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ وہ نہ سیاست دانوں کی گرفتاری کے حق میں ہیں اور نہ ہی ملاقاتوں پر پابندی کے۔

گفتگو کے اختتام پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اصل سوال یہی ہے کہ حکومت کس کی ہے اور اصل فیصلے کون کر رہا ہے، کیونکہ پوری قوم انہی فیصلوں کے تحت زندگی گزار رہی ہے۔ انہوں نے آرمی چیف کے علما کے اجتماع سے خطاب پر کہا کہ نئے اسٹیٹس کے ساتھ آنے والے مستقبل کے آغاز پر اچھا گمان کیا جانا چاہیے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button