لندن: برطانوی حکومت نے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد میں کمی لانے کے لیے ایک نیا جامع منصوبہ متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت اسکولوں میں لڑکوں میں عورت دشمنی کی ابتدائی علامات پہچاننے کے لیے اساتذہ کو خصوصی تربیت دی جائے گی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق حکومت کا ہدف خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کو نصف تک کم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اسکولوں میں رضامندی، صحت مند تعلقات اور آن لائن خطرات سے متعلق تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے گا۔
نوجوانوں میں غلط اور انتہاپسند نظریات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت نے 20 ملین پاؤنڈ کا خصوصی پیکیج بھی متعارف کرایا ہے، جس میں زیادہ خطرے میں موجود طلبہ کے لیے رویہ جاتی اصلاحی پروگرام شامل ہوں گے۔
منصوبے کے تحت نو عمر افراد کے لیے تعلقات میں بدسلوکی سے متعلق ایک نئی ہیلپ لائن بھی قائم کی جائے گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عورت دشمنی جیسے رویوں کی جڑیں بچپن ہی میں ختم کرنا نہایت ضروری ہے۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق 13 سے 15 سال کی عمر کے ہر پانچ میں سے ایک لڑکا سوشل میڈیا انفلوئنسر اینڈریو ٹیٹ کو مثبت نظر سے دیکھتا ہے، جس پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اساتذہ کی تنظیموں نے حکومتی منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے آن لائن مواد پر مزید سخت کنٹرول کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف اسکول اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتے، بلکہ والدین اور دیگر اداروں کو بھی اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔





