اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

حکومت (آئی ایم ایف) کی اور شرط پوری کرنے کو تیار، بڑی خبر آگئی

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیٹ میٹرنگ کو محدود کرنے کے لیے پروسومر ریگولیشنز 2025 کا مسودہ جاری کر دیا ہے، جس کے تحت نیٹ میٹرڈ سولر صارفین کے سسٹم سائز، معاہدے کی مدت اور ادائیگی کی شرح میں نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

نیپرا کی جانب سے پیش کردہ مسودے کے مطابق نیٹ میٹرنگ صارفین کو دی جانے والی ادائیگی تقریباً نصف تک کم کر دی جائے گی۔ نئے ضوابط کے تحت صارفین کو 26 روپے فی یونٹ کے بجائے اوسط قومی انرجی پرچیز پرائس دی جائے گی، جو تقریباً 13 روپے فی یونٹ بنتی ہے۔

حکام کے مطابق ان نئے ضوابط کی منظوری کے بعد متبادل اور قابلِ تجدید توانائی (تقسیم شدہ پیداوار) اور نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2015 کو منسوخ کر دیا جائے گا۔ تاہم نیپرا نے 2015 کے قانون کو ختم کرنے سے قبل عوام اور متعلقہ فریقین سے 30 دن کے اندر تجاویز اور اعتراضات طلب کر لیے ہیں۔

مسودے میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ نئے نیٹ میٹرنگ معاہدوں کی مدت سات سال سے کم کر کے پانچ سال کر دی جائے۔ اس کے علاوہ صارفین کو اپنے منظور شدہ لوڈ سے زیادہ صلاحیت کا سولر نیٹ میٹرنگ سسٹم نصب کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مثال کے طور پر 10 کلوواٹ کا صارف صرف 10 کلوواٹ تک کا ہی سولر نیٹ میٹرنگ سسٹم لگا سکے گا۔

مزید برآں مسودے کے تحت ڈسٹری بیوشن کمپنیاں (ڈسکوز) ایسے فیڈرز پر، جہاں نیٹ میٹرنگ کی تعداد پہلے ہی زیادہ ہو، مزید درخواستیں مسترد کرنے کا اختیار رکھیں گی۔

نیپرا حکام کے مطابق پروسومرز وہ صارفین ہوتے ہیں جو بیک وقت بجلی کے پیدا کنندہ اور صارف ہوتے ہیں۔ اس وقت سسٹم سے منسلک سولر نیٹ میٹرنگ کی مجموعی صلاحیت 6 ہزار میگاواٹ ہے، جبکہ آف گرڈ سولر کو شامل کیا جائے تو یہ صلاحیت 13 ہزار میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ ضوابط کے نفاذ سے شمسی توانائی کی مجموعی صلاحیت میں تقریباً 50 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام مہنگے پاور یوٹیلیٹی بزنس کو مالی نقصان سے بچانے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button