لندن، برطانیہ: برطانیہ میں غیر قانونی تارکینِ وطن کا معاملہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے جب ایک پندرہ سالہ برطانوی لڑکی کے ساتھ دو افغان غیر قانونی تارکینِ وطن نے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی ہے۔ یہ اندوہناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب یہ دونوں افراد چھوٹی کشتی کے ذریعے غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچے تھے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق، سارہ وائن نامی لڑکی کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعہ کو سیاستدانوں اور حکومتی ایوانوں کے لیے ایک لمحۂ فکر قرار دیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں میں اس واقعہ پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور عوام کا کہنا ہے کہ اب ان حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جن پر مؤثر اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔
والدین خوفزدہ، بڑھتا ہوا عدم تحفظ
پارک لینڈ کے مقامی پارک میں لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کے اس دل دہلا دینے والے واقعہ نے برطانوی والدین میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ عام شہریوں نے اسے ایک ڈراؤنا خواب قرار دیا ہے، جس کے بعد وہ اپنے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے شدید عدم تحفظ کا شکار ہو گئے ہیں۔ دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے، لیکن عوام میں اشتعال برقرار ہے۔
حقیقی مہاجرین اور مجرموں میں فرق کا سوال
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ پہلے ہی تارکینِ وطن کے حوالے سے سخت قوانین پر عمل پیرا ہے۔ اس سے قبل پاکستانی گرومنگ گینگ کے مکروہ واقعات بھی منظرِ عام پر آئے تھے، جس نے تارکینِ وطن برادری کے لیے مشکلات پیدا کی تھیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حقیقی مہاجرین، جو اپنے ممالک میں ظلم و ستم یا نامساعد حالات سے فرار ہو کر برطانیہ میں پناہ لیتے ہیں (جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں)، وہ اصل حق دار ہیں۔ تاہم، حالیہ واردات کے ملزمان جیسے مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افراد، ان حقیقی حق داروں کی پوزیشن کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
برطانوی حکومت کی جانب سے غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد اور جرائم کے واقعات کو روکنے کے لیے قوانین کو دن بدن مزید سخت کیا جا رہا ہے، جس میں حالیہ واقعہ مزید شدت پیدا کر سکتا ہے۔






