اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

’یہ اڈیالہ روڈ پر تماشا لگاتے ہیں، حکومت بانی پی ٹی آئی کو کہیں اور بھی منتقل کر سکتی ہے‘

اسلام آباد وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے کسی اور مقام پر منتقل کرنے کے امکان کا عندیہ دے دیا۔

ایک بیان میں انہوں نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خانم کی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملاقات کے دوران انہیں واضح طور پر ہدایت کی گئی تھی کہ پیغام رسانی نہ کریں تاکہ دیگر افراد بھی ملاقات کر سکیں۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق عظمیٰ خانم نے عمران خان اور بشریٰ بی بی سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات کی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ "عظمیٰ خانم سے ملاقات میں عمران خان نے ان کا حال تک نہیں پوچھا اور فوراً اپنا پیغام دینا شروع کر دیا۔ اگر وہ پورا پیغام پہنچا دیتیں تو شاید مزید صورتحال خراب ہوتی۔” ان کے مطابق عظمیٰ خانم نے باہر آکر تقریباً 60 فیصد پیغام ہی پہنچایا۔

اڈیالہ کے باہر احتجاج اور ممکنہ منتقلی

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ روزانہ اڈیالہ روڈ پر ہونے والے احتجاج سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت عمران خان کو کسی اور مقام پر منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے۔
تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، البتہ اگر فیصلہ ہوا تو ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

عمران خان کی سہولیات

وزیراعظم کے مشیر نے واضح کیا کہ عمران خان کو تمام سہولیات عدالتی احکامات اور جیل مینوئل کے مطابق فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ:

عمران خان کا ناشتہ، لنچ اور ڈنر ان کی مرضی کے مطابق بنتا ہے۔

کھانا پہلے چیک کیا جاتا ہے پھر انہیں دیا جاتا ہے۔

انہیں ورزش، اخبارات اور دیگر سہولتیں بھی حاصل ہیں۔

رانا ثنا اللہ نے اس تاثر کی تردید کی کہ کبھی انہیں "فائیو اسٹار” سہولیات ملنے کی بات کی گئی۔

مذاکرات پر ڈیڈ لاک

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش یکطرفہ رہی اور دوسری جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ "آج بھی دونوں طرف سے مذاکرات کے معاملات پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔”

سیاسی منظرنامے میں اس بیان نے عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور حکومتی حکمتِ عملی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button