اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

سرد موسم میں سیاسی گرمی عروج پر—پی ٹی آئی کا مستقبل، ممکنہ پابندی اور گورنر راج زیر بحث

ملک میں سرد موسم کے باوجود سیاسی درجۂ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے اور اس تمام بحث کا مرکزی نکتہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا مستقبل ہے۔ سیاسی حلقوں میں پارٹی پر ممکنہ پابندی، جبکہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے امکانات موضوعِ بحث ہیں۔ اسی دوران حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے کسی اور مقام پر منتقل کرنے کی اطلاعات نے سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا ہے۔

عمران خان کی منتقلی کی خبریں—حکومت اور جیل انتظامیہ کے مختلف مؤقف

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے ان خبروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "اگر ایک کو مائنس کیا گیا تو پھر کوئی بھی باقی نہیں رہے گا”، ان کے مطابق ایسی کارروائیاں حکومت کے اپنے لیے مشکلات بڑھا دیں گی۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے مؤقف اپنایا کہ اڈیالہ جیل کے باہر روزانہ کے احتجاج سے شہریوں کی زندگی متاثر ہو رہی ہے، اسی لیے عمران خان کی منتقلی پر غور کیا جا رہا ہے۔

تاہم اڈیالہ جیل کے ذرائع نے ان خبروں کی تردید کر دی اور کہا کہ عمران خان کی منتقلی نہ پہلے کبھی زیر غور آئی اور نہ اب ایسا کوئی فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان کی سیکیورٹی اور خوراک کا خصوصی خیال رکھا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر بانی کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کیا گیا تو ان کی بہنیں، رہنما اور کارکن پہلے کی طرح اس مقام پر پہنچ کر احتجاج کریں گے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ "عوام کو بانی سے اور بانی کو عوام سے جدا نہیں کیا جا سکتا”۔

گورنر راج پر بلاول بھٹو کا موقف

سیاسی صورتحال میں ایک نیا رخ اس وقت آیا جب بلاول بھٹو نے بیان دیا کہ وہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے حق میں نہیں، تاہم اگر "کوئی سیاسی جماعت دہشت گردوں کی سہولت کار بنتی ہے” تو گورنر راج ناگزیر ہو سکتا ہے۔

پی ٹی آئی کی سیاسی حکمتِ عملی—’’مائنس نون لیگ کنفرنس‘‘

دوسری جانب پی ٹی آئی نے بھی اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور ’’مائنس نون لیگ‘‘ کے عنوان سے قومی کانفرنس منعقد کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ پارٹی کے مطابق اس کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی دعوت دی جائے گی، جس سے سیاسی صف بندیوں میں ممکنہ تبدیلیوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

حکومتی وزراء کی تنقید

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے تحریک انصاف کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کے پاس عوامی طاقت ہوتی تو ”ناکے عبور کرنا مشکل نہ ہوتا“۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کارکن واٹر کینن کے سامنے ڈر گئے اور کچھ تو بھاگتے ہوئے گٹر میں بھی گر گئے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے خلاف کوئی بھی فیصلہ مکمل قانونی بنیادوں پر ہی ہوگا۔

سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ نو مئی کے واقعات کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے تمام سیاستدانوں سے اپیل کی کہ اپنی غلطیاں تسلیم کریں اور نوجوانوں کو انتشار کی طرف نہ لے کر جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں کسی کو غدار کہنا مناسب نہیں، بلکہ مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button