نیویارک / سری نگر:
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے جاری انسانیت سوز کارروائیوں اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین نے واضح کیا کہ بھارت کو سیکیورٹی خدشات کے باوجود بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی مکمل پاسداری کرنا ہوگی۔
اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے مطابق پہلگام حملے کے بعد بھارتی حکام کی جانب سے جموں و کشمیر میں غیر متناسب کارروائیاں کی گئیں جو انسانی حقوق کے عالمی معیارات سے متصادم ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی اقدامات خطے میں پہلے سے موجود خوف و جبر کی فضا کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
2,800 افراد گرفتار، صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھی نشانہ
اقوام متحدہ کے ماہرین نے بتایا کہ بھارتی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے نتیجے میں صحافیوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور عام شہریوں سمیت تقریباً 2,800 افراد کو گرفتار یا حراست میں لیا گیا ہے۔
انہوں نے مشتبہ ہلاکتوں، بدترین تشدد، جبری گمشدگیوں اور کشمیری و مسلم کمیونٹی کے خلاف امتیازی سلوک کی بھی شدید مذمت کی۔
رابطوں کی بندش اور میڈیا پر پابندیاں تشویشناک
ماہرین نے وادی میں بارہا کی جانے والی انٹرنیٹ و رابطہ بندی اور صحافتی آزادی پر پابندیوں کو تشویشناک اور بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ اقدامات حقِ اظہار، بنیادی آزادیاں اور عوامی رسائی کے اصولوں کے خلاف ہیں۔
مسلمانوں کے خلاف نفرت، انہدامات اور غیر قانونی ملک بدری عالمی قوانین کی خلاف ورزی
بیان میں کہا گیا کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیزی، تعصب، املاک کے انہدام اور 1,900 سے زائد افراد کی غیر قانونی ملک بدری بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔
ماہرین کے مطابق متعدد انسانی حقوق کے محافظ کئی برسوں سے سیکیورٹی قوانین کی آڑ میں بلاجواز نظربند ہیں، جب کہ بھارت کے انسداد دہشت گردی قوانین سماجی تقسیم اور ریاستی جبر کو بڑھا رہے ہیں۔
"بھارتی مظالم عالمی برادری کی نظر میں بے نقاب”
اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم اور مودی حکومت کی سخت گیر پالیسیوں نے انسانی حقوق کی صورتحال کو شدید بگاڑ دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔






