غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، برطانیہ میں پاکستانی نژاد 22 سالہ نوجوان محمد اذہان کی ڈی پورٹیشن روک دی گئی ہے، حالانکہ اس کے ریکارڈ میں چوری، اسکول میں چاقو لانے اور بعد ازاں اسکول سے اخراج جیسے واقعات شامل ہیں۔
محمد اذہان کو Class A اور Class B منشیات کی ترسیل میں ملوث ہونے پر 30 ماہ قید کی سزا دی گئی تھی اور وہ اس سزا کاٹ چکا ہے۔ اس کے باوجود، برطانوی ٹربیونل نے اس کی اپیل منظور کرتے ہوئے اس کی ڈی پورٹیشن روک دی۔
اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ محمد اذہان نے اسکول میں اسٹار طالب علم کے طور پر اپنی شہرت بنائی، اور اسی بنیاد پر اس کی برطانیہ سے ڈی پورٹیشن کو روکا گیا۔ اس اپیل کی کامیابی نے اس کی زندگی میں ایک نیا موڑ پیدا کیا ہے۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ اذہان کا اسکول میں مثبت کردار اور اپنی تعلیم پر توجہ دینے کی وجہ سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس کی واپسی پاکستان میں نہیں ہونی چاہیے۔






