فیصل واوڈا کا 9 مئی کے دہشت گردوں اور سیاسی ملاقاتوں پر سخت موقف
اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے 9 مئی کے دہشت گردوں کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو افراد خیبر پختونخوا میں چھپے ہوئے ہیں، وہ سب اپنی حرکتوں کے نتائج بھگتیں گے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ہڑتال یا غیر ضروری اقدامات کرتے ہیں تو بچی کچی سیاست بھی گورنر راج کے ذریعے ختم کی جا سکتی ہے۔
فیصل واوڈا نے واضح کیا کہ آئین اور قانون کے مطابق فیملی کو ملاقات صرف حال احوال کے لیے دی جاتی ہے، اور وکیل کو بھی صرف کیس سے متعلق ملاقات کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض ملاقاتیں سیاسی پیغام دینے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، اور اب سے یہ ملاقاتیں بھی بند کر دی جائیں گی۔ اگر وکلاء کیس کے علاوہ کوئی سیاسی پیغام دیں تو وہ بھی بند کر دی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایک "اشتعال پھیلانے والی پارٹی” نے ملک کو ایسے دوراہے پر پہنچا دیا ہے جہاں سے واپسی مشکل ہے، اور اب کیسز اور دیگر معاملات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ کچھ افراد بلاجواز اپنے ملک کو عدم استحکام اور اپنی فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور اس سازش کو سختی سے روکا جائے گا۔
انہوں نے اصولی موقف واضح کرتے ہوئے کہا: "پیار کے بدلے ڈبل پیار، عزت کے مطابق ڈبل عزت، اور بدمعاشی کا جواب ڈبل بدمعاشی سے دیا جائے گا۔”






