اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

فضل الرحمان کا حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا عندیہ، ملک میں آئین کو کھلونا بنانے کا الزام

مردان: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سابقہ حکومت کے خلاف تحریک چلائی جا سکتی ہے تو موجودہ حکومت کے خلاف کیوں نہیں، ملک میں آئین کو کھلونا بنا دیا گیا ہے۔

ایک تقریب سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ٹرمپ کے ہاتھوں سے فلسطینیوں کا خون ٹپک رہا ہے جبکہ شہباز شریف انہیں امن کا نوبل انعام دلوانے کی بات کر رہے ہیں، جو سمجھ سے بالاتر ہے۔

انہوں نے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے رویوں پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح گروہوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، پاکستان کو امن کی طرف بڑھنا ہوگا۔

جے یو آئی سربراہ نے ملکی معاشی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معیشت تباہ ہو چکی ہے، پاکستان وہ نہیں رہا جس کی عوام نے امیدیں لگائی تھیں۔ قوم نے اسلامی نظام اور دینی آزادی کے لیے ملک حاصل کیا تھا، لیکن آج عوام بنیادی حقوق کے لیے ترس رہے ہیں۔

اسمبلی میں قانون سازی پر بھی مولانا فضل الرحمان نے سخت اعتراضات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ طاقتور طبقات کے مفادات کے لیے ترامیم کرتی ہے، عوام کی خواہشات کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 27ویں آئینی ترمیم جعلی اکثریت سے منظور کی گئی، ارکانِ اسمبلی کو خرید کر اکثریت بنائی گئی جبکہ سی پیک آج بھی بند ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اگر تم پالیسی کو تسلسل دو گے تو ہماری تم سے جنگ ہے” اور اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی موجودہ پالیسیاں ملک کے مفاد میں نہیں۔

مزید برآں، انہوں نے الزام عائد کیا کہ جسے پہلے مغربی ایجنڈے کا ایجنٹ کہا جاتا تھا، آج وہی مغربی ایجنڈا موجودہ حکومت پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی افغان پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور 78 سال میں ہم افغانستان کو اپنا حقیقی دوست نہیں بنا سکے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button