کابل: عالمی سطح پر دہشت گرد نیٹ ورکوں کی سرگرمیاں افغانستان میں بڑھتی جا رہی ہیں، جس پر عالمی اداروں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کے اجلاس میں عالمی عہدیداروں نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے افغانستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خطرات کو اجاگر کیا۔
افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق، ایس سی او کے عہدیداران نے متنبہ کیا کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہ زیادہ فعال ہو رہے ہیں اور ان کی سرگرمیاں عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر (ایس سی او) کے سربراہ اولاربیک شارشییف نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں افغانستان اور شام میں بڑھ گئی ہیں، اور یہ گروہ حملے کرنے، سلیپر سیل قائم کرنے اور فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے اپنے دائرہ کار کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اولاربیک نے کہا کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہ تیسرے ممالک کی جعلی دستاویزات کا استعمال کر رہے ہیں، جس سے ان کی شناخت اور نقل و حرکت مشکل ہو رہی ہے، اور عالمی سیکیورٹی اداروں کے لیے ان کے خلاف کارروائی کرنا مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
آزاد ریاستوں کی انسداد دہشت گردی تنظیم کے سربراہ یوجینی سسویف نے بھی اس بات کی نشاندہی کی کہ دہشت گرد گروہ افغانستان میں اپنی نقل و حرکت بڑھا کر علاقائی اثرو رسوخ میں اضافے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان گروہوں کی یہ سرگرمیاں نہ صرف افغانستان کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
یہ عالمی تشویش اس بات کا اشارہ ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کی موجودہ صورتحال نہ صرف علاقے بلکہ عالمی سیکیورٹی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ عالمی ادارے اور خطے کے ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔






