بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق پہلے جھٹکے کی شدت 3.7 جبکہ دوسرے کی شدت 4.3 ریکٹر اسکیل ریکارڈ کی گئی۔
اس سے قبل گزشتہ روز آنے والے 5.7 شدت کے شدید زلزلے نے تباہی مچادی تھی، جس کے نتیجے میں اموات کی تعداد 10 ہو گئی جبکہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ متعدد عمارتوں میں خطرناک دراڑیں بھی پڑ گئیں جس سے شہریوں میں خوف و ہراس برقرار ہے۔
مسلسل آفٹر شاکس اور خطرناک صورتحال کو دیکھتے ہوئے ڈھاکا یونیورسٹی نے فوری طور پر 15 روز کے لیے تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تمام کلاسیں اور امتحانات 6 دسمبر تک بند رہیں گے۔ یہ فیصلہ ہفتے کے روز وائس چانسلر پروفیسر نیاز احمد خان کی زیرِ صدارت سنڈیکیٹ کے ہنگامی ورچوئل اجلاس میں کیا گیا۔
ماہرین نے عمارتوں کے مکمل معائنے اور ضروری مرمت تک تمام ہاسٹلز کو خالی کرانے کی ہدایت کی ہے تاکہ ممکنہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
مزید آفٹر شاکس کے خدشے کے باعث شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔






