پاکستانی تجزیہ کار احمد منصور نے کہا ہے کہ افغان طالبان کی دہشت گردوں کی سرپرستی اور ان کی محفوظ پناہ گاہوں کی وجہ سے افغانستان عالمی سطح پر شدید تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ عالمی برادری نے افغان طالبان حکومت کے اقدامات پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے اور انہیں عالمی فورمز پر مدعو کرنے یا تعلقات قائم کرنے سے گریزاں ہے۔
افغان جریدے "طلوع نیوز” کے مطابق، ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے حالیہ سربراہی اجلاس میں ایک بار پھر افغانستان کو مدعو نہیں کیا گیا۔ اس اجلاس میں پاکستان، چین، بھارت اور دیگر ممالک نے شرکت کی، لیکن افغان طالبان کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔ اجلاس میں اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری، ثقافتی اور انسانی ہمدردی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، مگر افغانستان کے طالبان حکمرانوں کو اس سے مکمل طور پر الگ رکھا گیا۔
عبدالظہور مدبر، جو اقتصادی امور کے ماہر ہیں، نے اس بارے میں کہا کہ افغانستان کو ٹرانزٹ کوریڈور کی اہمیت کے باوجود اس اجلاس میں شریک نہیں کیا گیا، کیونکہ افغان طالبان کی شدت پسندانہ پالیسیوں نے انہیں عالمی سطح پر الگ تھلگ کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان کے افغانستان کے عوام پر ظلم، جبر اور استبداد کے باعث ان پر عالمی پابندیاں عائد کرنا ضروری ہو چکا ہے۔
نتیجہ
افغان طالبان کے عالمی سطح پر تعلقات قائم کرنے کی کوششوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، اور ان کی پالیسیوں کی وجہ سے افغانستان عالمی برادری میں مزید تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ ان کی حکومت کے اقدامات اور دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات نے انہیں عالمی فورمز سے علیحدہ کر دیا ہے، جس کا پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک پر بھی گہرا اثر پڑ رہا ہے۔






