برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود پیر کے روز ملک کی پناہ گزین پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کریں گی، جس کے تحت برطانیہ میں پناہ حاصل کرنے والوں کو اب مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے 20 سال تک انتظار کرنا پڑے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات غیر قانونی ہجرت اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ آنے والوں کی تعداد میں کمی لانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
نئی پالیسی کے تحت پناہ ملنے کے بعد افراد کو مستقل نہیں بلکہ عارضی حیثیت دی جائے گی۔ موجودہ قانون کے مطابق پناہ گزینوں کو 5 سال کا اسٹیٹس ملتا ہے، جس کے بعد وہ مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ تاہم، نئی پالیسی کے مطابق یہ مدت کم کر کے 2.5 سال کر دی جائے گی۔ اس مدت کے اختتام پر پناہ گزینوں کی حیثیت دوبارہ جانچی جائے گی، اور اگر برطانیہ ان کے آبائی ممالک کو محفوظ قرار دے دے، تو انہیں واپس جانے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔
مستقل رہائش کے حصول کے لیے پناہ گزینوں کو مسلسل 20 سال تک عارضی حیثیت کو برقرار رکھنا ہوگا۔ اس حکمتِ عملی میں ڈنمارک کی سخت پناہ پالیسیوں سے متاثر ہونے کے آثار ہیں، جہاں مہاجرین کو 2 سال کے لیے عارضی رہائش دی جاتی ہے، اور اس کے بعد ان کی حیثیت دوبارہ جائزہ لی جاتی ہے۔






